کائنات کے بارے میں ایک حیران کن سائنسی دریافت نے ماہرینِ فلکیات کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، جہاں خلا میں ایک دیوہیکل “واٹر ویپر کلاؤڈ” یعنی پانی کے بخارات کا بہت بڑا بادل دریافت ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کوئی سمندر یا دریا نہیں بلکہ گیس اور بخارات پر مشتمل ایک عظیم بادل ہے، جو زمین سے اربوں نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس بادل میں موجود پانی کی مقدار زمین کے تمام سمندروں سے بھی کئی کھرب گنا زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بادل ایک انتہائی طاقتور کواسار کے قریب موجود ہے، جس کے مرکز میں ایک بڑا بلیک ہول پایا جاتا ہے۔ یہ دریافت کائنات کے ابتدائی دور کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کائنات اتنی وسیع اور پیچیدہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اس کے کئی راز ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکے، اور ہر نئی دریافت انسان کو مزید حیرت میں ڈال دیتی ہے۔










Add Comment