Home » blog page » بےموسم برسات – فوزیہ جمیل
بلاگ

بےموسم برسات – فوزیہ جمیل

موسم بہار میں بے موسم کی برسات نےرخصت ہوتے جاڑے کو انگڑائ لے کر دوبارہ جگا دیا۔کراچی میں حالیہ ہونے والی بارش کی بدولت الماریوں میں بند ہوتے کمفرٹ دوبارہ سے استعمال کے لئے نمودار ہو گۓ ۔ بارش کے ساتھ چلنے والی سرد ہواؤں نے مری کی یاد تازہ کردی۔

ہزاروں خواہششیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے

لگتا تھا کہ ہمارے ستارے گردش میں تھے۔ہمیں ایک ضروری کام کے لیےگھر سے باہر جانا پڑا ہمارے بیٹر ہاف نےہمیں کراچی میں بارش کے بعد کی صورتحال سمچھانی چاہی مگر ہم نے بھی نہ سمچھنے کی ٹھان رکھی تھی تو وہ غصہ دکھاتے دوسرے کمرے میں غائب ہوگۓ۔ اگر کام ضروری نہ ہوتا تو ہم اپنے پیر چوکھٹ کے باہر نہیں نکالتے
گھر سےنکلنے سے پہلے ہم نے احتیاطاً چھاتا اور ربڑ کےجوتے پہن لیے ۔شروع رستے کی آسانی نے ہمیں اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا کہ “All is right” مگر آگے ہم نے ایک دریا کو موجزن دیکھا جو ٹھاٹے مار رہا تھا ۔آس پاس کی ٹریفک نے دریا کو بےقابو کر رکھا تھا۔ بقول شاعر

اس پانی میں اچھلتے کودتے آسکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی سڑک بچی نہیں ہے

ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے مگر ساتھ ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کئی ہماری نیا پانی میں بند نہ ہوجائے۔اللہ تعالی کے کرم اور فضل کی بدولت ہم نے دریا پار کر ہی لیا۔اچانک خیال آیا کہ واپس لوٹ جاتے ہیں مگر پھر سوچا کہ آدھے راستے سے کیونکر واپس ہو۔ آگے ان کھڈوں سے جو اب ندی نالوں کی شکل میں تبدیل ہوچکے تھے بچتے گرتے آگے کی طرف دوڑے مگر ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔بہنوں ہمیں آگے سڑک بند ملی کسی ترقیاتی کام کی وجہ سے نہیں بلکہ سامنے گاڑیوں کا جمعہ بازار لگا ہوا تھا داستان غم کچھ یوں تھی کہ ایک بڑے ٹرک نے آگے کا راستہ بند کردیا تھا جوکچھ عرصے پہلے بنی ہوئی سڑک کے دھنس جانے کی وجہ سے اس میں پھنس چکا تھا۔اس وقت پھر خیال آیا کہ واپس پلٹ جاتے ہیں مگر

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

واپسی کے سارے راستے پیچھے آنے والی گاڑیوں نے بند کر دیے اب اس ٹریفک میں پھنسے رہنے کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھاہم سمیت سارے بےچارےہاتھ ملتے ،دانت پیستے رہے۔ہم نے اللہ تعالی سے دعا مانگی ک
ہ”اے اللہ کوئی تو چارہ گر ہوتا”
مگر کیا کریں کراچی والےخود اسے لانا نہیں چاہتے ہیں۔اتنی خواری اٹھانے کے بعد ڈیڑھ گھنٹے میں پورا ٹریفک بحال ہوا تو،لوٹ کے بدھو گھر کو آۓ۔ والے محاورے کی مانند ہم تھکے،ہارے اور ناکام گھر واپس لوٹے تو ہمارے شوہر نامدار نے زبان سے تو کچھ نہیں کہامگر انکی طنزیہ مسکراہٹ کا مطلب ہمیں کچھ کچھ سمچھ آیا مگر فل حال ہم پورا سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھے۔

ہم سوچنےپر مجبور تھے کہ اس تھوڑی سی بارش نے کراچی اور کراچی والوں کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا آخر اس شہرکی تباہی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟
سندھ حکومت یا کراچی والے خود۔

About the author

Avatar photo

Global Plus News

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply