اسلام سے پہلے عرب اور عجم کی قوموں میں صنف نازک ہمیشہ طرح طرح کے ظلم و ستم کا شکار رہی ہے اول تو ان کا حق تسلیم ہی نہیں کیا جاتا تھا اور اگر کوئی حق مان بھی لیا جاتا تو مردوں سے اس کا وصول کرنا اور محفوظ رکھنا بہت مشکل تھا۔ جتنے حقوق اسلام نے عورت کو دیئے ہیں۔ وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیئے۔ ارشاد ربانی ہے:
“جواب میں ان کے رب نے فرمایا۔ میں تم میں سے کسی کے عمل کو ضائع کرنے والا نہیں ہوں۔خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔” (آل عمران 195 )
اسلام سے پہلے وراثت میں عورت کے حق کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا بلکہ اکثر عورت ہی کو وراثت کی طرح تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے جاہلیت کے اس ظالمانہ نظام کو جڑ سے ختم کر دیااور عورت کے لیے بھی وراثت میں باقاعدہ حصہ مقرر کر دیا۔
سورہ نساء کی آیت نمبر 7 ایک حقیقی انقلابی پیغام کی حامل ہے۔
“مردوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں۔ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ یہ مقرر کیا ہوا حصہ ہے۔”
اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ دے کر اس کی عزت اور وقار میں اضافہ کیا اور اسے معاشی تحفظ فراہم کیا مگر افسوس کہ آج بھی بہت کم لوگ اس حق کو ادا کرتے ہیں، جو دین اور قانون نے اسے عطا کیا ہے۔ پاکستان میں پنجاب سے لے کر خیبر پختونخوا تک جھوٹی گواہیوں اور جعلی دستخط کے ذریعے خواتین کو ان کے جائز حق کی ملکیت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ والد کے انتقال کے بعد اکثر بھائی بہنوں کے جائز حصے پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ جو کہ ایک نہایت سنگین جرم ہے۔ بعض لوگ جہیز کا بہانہ بنا کر عورتوں کو وراثت سے محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں۔ بہت سی عورتیں خوف اور سماجی دباؤ کے تحت اپنے حق سے دستبردار ہو جاتی ہیں جو کہ ایک المیہ ہے۔ یہ نہ صرف اخلاقی اور دینی لحاظ سے ظلم عظیم ہے بلکہ قانونی طور پر بھی قابل گرفت عمل ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وراثت کے بارے میں ایک اٹل حکم نازل فرمایا ہے۔ جس کو توڑنا حرام ہے۔
حدیث مبارکہ میں آتا ہے۔
“جس شخص نے ظلم کے طور پر ایک بالشت زمین بھی لے لی قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔”
اس حدیث سے ظلم کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے کہ کسی کا معمولی سا حق مارنا بھی آخرت میں سخت سزا کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے آخرت کے شدید عذاب سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو ان کا حق دیا جائے۔ خواتین کو بھی اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہئیے کہ وراثت میں ملنے والا مال ان کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو اللہ تعالی نے ان کو عطا فرمایا ہے۔ اس حق کی حفاظت کریں اور محض دباؤ یا جذبات کی بنیاد پر اس حق سے دستبردار نہ ہوں ۔
خواتین کو اپنے اس حق کے بارے میں یہ آگاہی ہونا بہت ضروری ہے کہ اگر ان کے ساتھ یہ ظلم ہو تو وہ فیملی کورٹ سے رجوع کر کے قانونی چارہ جوئی کر سکتی ہیں۔ معاشرے کے با اثر اور ذمہ دار مردوں کو چاہئے کہ وہ عورتوں کے جائز وراثتی حقوق ادا کریں تاکہ یہ عمل دنیا اور آخرت میں سکون اور نجات کا سبب بنے۔
















Add Comment