ہر سال قومی اور صوبائی بجٹ تقریر اس امید کے ساتھ سنی جاتی ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو عوام کی معاشی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ہوں گے ،مگر وائے افسوس کہ پاکستان میں شاز و نادر ہی کبھی ایسا کوئی بجٹ آیا ہو جو عوامی امنگوں کا ترجمان ہو ۔خاص طور پر مڈل کلاس طبقے کی ضروریات اکثر و بیشتر نظر انداز کی جاتی ہیں۔ بجٹ 2026۔ 27 کی بات کی جائے تو اس میں بھی ایسا ہی ہوا کہ نہ تو پیٹرول پہ لیوی ختم کی نہ شرع سود میں کوئی کمی آئی، اور اگر بات کی جائے پاکستان کے معاشی شہہ رگ کراچی کی تو یہاں حالات اور بھی خراب نظر آتے ہیں ۔
پہلے تو یہ بات ذہن میں رہے کہ جب حکومت لوگوں کے درمیان منصفانہ تقسیم چھوڑ دیتی ہے تو غم و غصہ اور بیزاری پھیلنا ایک فطری عمل ہے، بطور کراچی کی رہائشی اس بجٹ میں سوائے مایوسی کے کراچی کو کچھ نہیں ملا۔ ایک ایسا شہر جو آپ کے ملک کے جی ڈی پی میں تقریبا 20 سے 25 فیصد حصہ ڈالتا ہو ۔خود سرکاری ریکارڈ کے مطابق ایف، بی آر ،کی مجموعی وصولیوں کا 53 فیصد حصہ کراچی کے ٹیکس دفاتر سے جمع ہوتا ہے۔ پاکستان کی سمندری تجارت کا تقریبا 90 فیصد حصہ کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے ہوتا ہے ۔اور وفاقی اور صوبائی بجٹ میں کراچی کے لیے مختص فنڈ کو دیکھا جائے تو وہ اونٹ کی داڑ میں زیرے کے برابر دکھائی دیتی ہے ۔کراچی جو پانی کے لیے کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے جس کے نلکے سوکھے پڑے ہیں اور شہری ٹینکر مافیا کے پیچھے خوار ہو رہے ہیں۔ ایسے میں کراچی کے پانی کے سب سے بڑے منصوبے کے فور کے تکمیل کے لیے مجموعی طور پر 40 ارب کی ضرورت ہے جبکہ وفاق نے اس منصوبے کے لیے صرف 10 ارب رکھے ہیں جس کا مطلب ہے کہ آئندہ چار سالوں تک کے فور منصوبہ بننے کے کوئی آثار نہیں ۔
کراچی میں موجود ٹرانسپورٹ کے حالات سے یہ شہر پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں لگتا بلکہ کوئی پسماندہ شہر لگتا ہے، جو ملک پر بوجھ ہو ۔کراچی والے یہ سوال کرتے ہیں کہ کراچی سے اتنا ٹیکس لینے کے باوجود بھی ابھی تک گرین لائن منصوبہ کیوں نہیں بن سکا، اس وقت گرین لائن منصوبے کو چھ ارب کی ضرورت ہے اور وفاقی حکومت نے اس کے لیے صرف 09۔1 ارب مختص کیے ہیں اور اگر سندھ کے صوبائی بجٹ کی بات کی جائے تو سندھ حکومت کے مطابق کراچی کے ترقیاتی پورٹ فولیو میں 816 منصوبے ہیں جن پہ مجموعی لاگت 644.3 ارب روپے ہے۔ جبکہ روا مالی سال میں ان منصوبوں کے لیے 19۔ 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔
کراچی اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومت کے عدم توجہی کے باعث کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں ہر طرف ابلتے گٹر، ٹوٹی سڑکیں، ٹرانسپورٹ، کی ابتر حالت اہلیان کراچی کے صبر کا امتحان لیتا نظر آتا ہے، سوال یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں کراچی کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہے کیا وہ کراچی کے حق پر ڈاکہ نہیں ۔اہل کراچی کو اب اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہوگا اور اس غیر منصفانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی ۔





















Add Comment