لیپ ٹاپ لے کر بیٹھی ہوئی ندا کے چہرے پر مسرت کے دیے جگمگا رہے تھے۔
” اللہ تیرا شکر ہے۔”
امی کی متشکرانہ آواز گونجی۔
“اللہ نے ہمیں دوبارہ عزت کی زندگی کی طرف لوٹا دیا ورنہ تمھارے بابا کے انتقال کے بعد تو دنیا ہی اندھیر ی ہو گئی تھی جب تمہیں پڑھائی چھوڑ نی پڑی ۔”
ندا اور اس کی ماں کی نگاہوں میں بابا کی صحن میں رکھی میت گھوم گئی۔ ندا کی امی اٹھ کر بیسن کی جانب مڑتے ہوئے بولیں۔
” بنو قابل “کی ٹیم نے ہاتھ نہ پکڑا ہوتا اوربنا کسی معاوضے کے میں ہماری ان صلاحیتوں کو جلا نہ بخشی ہوت تو اج بھی ہم مایوسی اور غربت کے ان اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے ۔ میں وضو کرکے شکرانے کے نفل ادا کرلوں ۔اور دعا کرونگی کہ رب ان لوگوں کے ہاتھوں میں اس ملک کا نظا م دے دے تاکہ ہر غریب کو عزت کی روٹی روزی مل سکے۔
اور اس سے وابستہ وہ لوگ جو اپنی قوم کی امنگوں کو پورا کرتے ہیں ان کا ہماری مایوسی میں گھری ہوئی نوجوان نسل پر ایک احسان عظیم ہے. میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں نے جو اس پروگرام کے ذریعے حاصل کیا ہے اسے اپنی نسل کی طرف لوٹا کر انہیں مایوسی کے اندھیروں سے نکالوں گی کیونکہ،
ہم ہیں روشن راہوں کے کے راہی.”





















Add Comment