Home » blog page » بلاگ » موجودہ دور کے حالات – عشرت عمران
بلاگ

موجودہ دور کے حالات – عشرت عمران

کراچی، جو کبھی “روشنیوں کا شہر” کہلاتا تھا، آج بہت سے شہریوں کی نظر میں اندھیروں کا شہر بنتا جا رہا ہے۔ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، ٹوٹا پھوٹا انفراسٹرکچر، بڑھتے ہوئے شہری مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی نے اس شہر کی رونق کو ماند کر دیا ہے۔ کراچی کا ساحلِ سمندر، جو غریب اور متوسط طبقے کی واحد بڑی تفریح گاہ سمجھا جاتا ہے، آج صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث گندگی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب سمندر کی سیر کم خرچ اور خوشگوار تفریح ہوا کرتی تھی، مگر آج مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس کی خوبصورتی متاثر ہو چکی ہے۔

بجلی کی فراہمی غیر یقینی ہونے کے باوجود عوام کو بھاری بھرکم بلوں اور مختلف ٹیکسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بجلی کے بل میں شامل متعدد محصولات اس کی رقم کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا عام انسان شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اس کے لیے زندگی گزارنا روز بروز دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی کا حصول بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اور ہر گزرتا دن مزید آزمائش لے کر آتا ہے۔ آخر ان تمام مسائل کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اس سوال پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں، تاہم ایک رائے یہ بھی ہے کہ معاشرے میں اخلاقی اقدار کی کمزوری، دین سے دوری اور حد سے بڑھی ہوئی مفاد پرستی نے بھی ان مسائل میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کا یہ مشہور قول حکمرانوں کی ذمہ داری کا بہترین تصور پیش کرتا ہے:
“اگر میرے دورِ خلافت میں دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے تو اس کی ذمہ داری عمر پر ہوگی۔”

یہ قول اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اسلامی طرزِ حکمرانی میں رعایا کی فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے حکمران عطا فرمائے جو قرآنِ کریم کو پڑھنے، سمجھنے اور اس کی تعلیمات کے مطابق عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے والے ہوں، تاکہ معاشرے میں امن، خوشحالی اور انصاف کو فروغ حاصل ہو۔