Home » blog page » بلاگ » حضرت عمر فاروقؓ – عشرت زاہد
بلاگ

حضرت عمر فاروقؓ – عشرت زاہد

# حضرت عمر فاروقؓ: عدل، رحمت اور خوفِ خدا کا پیکر

اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں باب، جسے دنیا آج بھی **”فاروقِ اعظم”** کے نام سے جانتی ہے، حضرت عمر بن خطابؓ کی عظیم شخصیت ہے۔ آپؓ کی ذات دو بظاہر متضاد صفات کا حسین امتزاج تھی؛ کفار کے لیے سخت اور اہلِ ایمان کے لیے نہایت نرم۔ مگر ان دونوں صفات کے پیچھے جو اصل قوت کارفرما تھی، وہ **خوفِ خدا** تھا۔

حضرت عمرؓ کفار کے مقابلے میں غیرت و استقامت کی مثال تھے، جبکہ مومنین کے ساتھ شفقت، محبت اور رحم دلی کا برتاؤ کرتے تھے۔ آپؓ عدل کا وہ استعارہ تھے جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

**”حق عمر کی زبان اور دل پر جاری ہوتا ہے۔”**

فتح مکہ کے بعد بھی ایران اور روم جیسی سپر پاورز کے سامنے حضرت عمرؓ کی ہیبت ایسی تھی کہ قیصر و کسریٰ کے ایلچی بھی کانپ اٹھتے تھے۔ قادسیہ اور یرموک جیسے عظیم معرکوں میں مسلمانوں کی کامیابیوں کے پس منظر میں بھی ان کی مضبوط قیادت اور رعب نمایاں تھا۔

حضرت عمرؓ اپنی رعایا کے لیے باپ جیسا دل رکھتے تھے۔ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے، اور جب بھوکے بچوں کی آواز سنتے تو خود اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری اٹھا کر ان کے گھر پہنچاتے۔ آپؓ کا مشہور فرمان ہے:

**”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا۔”**

ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت نے انجانے میں آپؓ سے شکوہ کیا تو خلیفۂ وقت ہونے کے باوجود زمین پر بیٹھ کر پوری توجہ سے اس کی بات سنتے رہے۔

حضرت عمرؓ کے دل میں خوفِ خدا اس قدر رچا بسا تھا کہ قرآنِ کریم کی آیات سن کر بے اختیار رو پڑتے تھے۔ ایک مرتبہ سورۂ طور کی یہ آیت سنی:

**”إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ”**
(بے شک آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا۔)

یہ آیت سن کر اس قدر متاثر ہوئے کہ بیمار پڑ گئے، لوگ کئی دن تک آپؓ کی عیادت کے لیے آتے رہے۔

آپؓ ہر رات اپنا محاسبہ کرتے اور خود سے کہتے:

**”اے عمر! کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے کیا جواب دو گے؟”**

ایک مرتبہ کسی شخص نے کہا: **”اے امیرالمؤمنین! اللہ سے ڈریے۔”** آپؓ فوراً رک گئے اور فرمایا:

**”اگر تم جیسے لوگ مجھے یہ نصیحت نہ کریں تو تم میں کوئی خیر نہیں، اور اگر میں اسے قبول نہ کروں تو مجھ میں کوئی خیر نہیں۔”**

آپؓ اپنے منصب کی ذمہ داری کو اس قدر محسوس کرتے تھے کہ خلافت سنبھالنے کے بعد رو پڑے اور فرمایا:

**”کاش! عمر کی ماں نے عمر کو جنا ہی نہ ہوتا۔”**

کبھی بکریاں چراتے ہوئے فرماتے:

**”آج عمر چرواہا ہے، کل اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا۔”**

ایک مرتبہ بیت المال کا ایک اونٹ گم ہوگیا تو سخت گرمی میں خود اسے تلاش کرنے نکل پڑے۔ حضرت علیؓ نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا:

**”آپ نے اپنے بعد آنے والے حکمرانوں کے لیے خلافت کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔”**

زندگی کے آخری لمحات میں اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے فرمایا:

**”میرا چہرہ زمین پر رکھ دو، شاید اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم فرما دے۔”**

پھر وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

**”اگر اللہ نے مجھے نہ بخشا تو عمر ہلاک ہو گیا۔”**

یہ وہ عمرؓ تھے جن کے نام سے شیطان بھی اپنا راستہ بدل لیتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی عاجزی، انکساری اور خوفِ خدا کا یہ عالم تھا۔

حضرت عمرؓ کی سختی ظلم نہیں بلکہ عدل تھی، اور ان کی نرمی کمزوری نہیں بلکہ رحمت تھی۔ ان دونوں صفات کی بنیاد وہ خوفِ خدا تھا جو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس پیدا کرتا ہے۔

آج ہمارے حکمرانوں اور عوام کو اگر کوئی چیز حضرت عمر فاروقؓ کے کردار سے قریب کر سکتی ہے تو وہ **خوفِ خدا** ہے، کیونکہ یہی وہ صفت ہے جو انسان کو فرعون نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عاجز بندہ بناتی ہے۔