Home » blog page » بلاگ » جب دلوں کو صبر آ جاتا ہے تو صرف خاموشیاں بچتی ہیں – ارم راؤ
انٹرٹینمنٹ کی دنیا بلاگ

جب دلوں کو صبر آ جاتا ہے تو صرف خاموشیاں بچتی ہیں – ارم راؤ

میں نے یہ ڈرامہ ڈاکٹر بہو نہیں دیکھا(میں ڈرامے موویز کچھ بھی نہیں دیکھتی کافی عرصے سے شاید میری عمر کا تقاضہ ہے کہ مجھے اب کچھ بھی اچھا نہیں لگتا یا پھر جوانی میں اتنا ٹی وی اور موویز دیکھیں ہیں کہ اب دل بھر گیا ہے ان سب چیزوں سے) بس کل سے اس ڈرامے کی ریلز نے دماغ خراب کیا ہوا تھا پھر یوٹیوب پہ جا کر یہ پورا سین دیکھنا پڑا ۔

بس اتنا ہی کہوں گی کہ ایک انا پرست مرد ایک ڈاکٹر عورت سے اپنی مرضی سے شادی کر کے اسے اپنی پسند کے سانچے میں ڈھال کر اس سے بچے پلوا کر ایک کامیاب زندگی گزار کر ، معاشرے میں ایک مثالی خاندان کا امیج بنا کر ، اس کے ساتھ اپنی زندگی کے سینتیس سال گزار کر بھی اگر کسی دوسری عورت کے سامنے یہ کہے کہ میری بیوی میرے قابل نہیں ہے میں ایسی عورت کو ڈیزرو نہیں کرتا تو مجھے بتائیں کہ ایک بہترین عورت کی کیا ڈیفینیشن ہے ؟؟

اس سے زیادہ پرفیکٹ عورت کیا ہو گی ؟؟ جس نے اپنے تن من دھن سے اس ایک انا پرست خود غرض اور نارسسٹ مرد کی خوشنودی حاصل کرنے میں وار دیا اور ساری عمر اس کی تابعداری کی ہر وقت ہر لمحہ اس کے ساتھ کھڑی رہی ، بچوں کی بہترین پرورش کی انہیں کامیاب کیا ،ان کی شادیاں کیں ۔اس سے زیادہ خود غرض انا پرست اور نارسسٹ مرد کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ہو گی۔ جب اس کی بیگم ڈاکٹر فرحین (صبا پرویز ) نے ڈاکٹر شاہنواز سے گھر آ کر پوچھا کہ کیا آپ نے مجھ سے کبھی بھی محبت نہیں کی ۔۔۔؟؟

کتنی آس سے پوچھا اس نے اور اس انا پرست نارسسٹ آدمی نے کتنے آرام سے اپنا منہ پھیر لیا ۔ اور یہی صدمہ اس بیچاری کی جان لے گیا ۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ ڈاکٹر فرحین اس نارسسٹ مرد ڈاکٹر شاہنواز کے منہ پہ دو تھپڑ مار کر اسے چھوڑ جاتی ۔ پھر اس کے انا کے بُت ٹوٹتے اور منہ کے بل زمین پہ گرتا ۔ اسے بھی پتہ چلتا ریجیکشن کا دُکھ کیا ہوتا ہے ، بھرم ٹوٹتے ہیں تو انسان پہ کیا گزرتی ہے ۔ ڈاکٹر فرحین کو مارنے میں جلدی کی رائٹر نے ، وہ ڈاکٹر شاہنواز کا غرور و تکبر سے بھرا ہوا مجسمہ اسمان سے زمین پہ گرتے ہوئے دیکھتی تو مزہ آتا ۔