Home » blog page » بلاگ » ایک چھت نے چودہ ننھی زندگیاں نگل لیں – طلعت نفیس
بلاگ

ایک چھت نے چودہ ننھی زندگیاں نگل لیں – طلعت نفیس

30 جون 2026 پاکستان کے لیے ایک ایسا دن ثابت ہوا جس نے ہر حساس دل کو غمزدہ کر دیا۔ لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 14 معصوم بچے جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت، ناقص تعمیرات اور کمزور نگرانی پر ایک دردناک سوالیہ نشان ہے۔

وہ بچے جوشام کع اپنے بستے اٹھا کر بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے گھر سے نکلے تھے، کسی کو کیا معلوم تھا کہ وہ کتابوں کے بجائے ملبے تلے دب جائیں گے۔ جن والدین نے انہیں دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا تھا، وہ شام تک اسپتالوں اور ملبے کے ڈھیروں کے درمیان اپنے جگر کے ٹکڑوں کو تلاش کرتے رہے۔ یہ منظر صرف ان خاندانوں ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ناقابلِ فراموش صدمہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت کلاس میں متعدد بچے موجود تھے۔ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو ملبے سے نکالا اور اسپتال منتقل کیا، لیکن کئی معصوم جانیں بچائی نہ جا سکیں۔ ہر گزرتا لمحہ امید اور مایوسی کے درمیان ایک کربناک جدوجہد کی تصویر بنا رہا۔ ابتدائی تحقیقات یہ اشارہ دیتی ہیں کہ عمارت کی کمزور حالت، ناقص تعمیر یا حفاظتی اصولوں سے غفلت اس سانحے کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہو سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ لاپروائی ہے۔ ایسی غفلت، جس کی قیمت معصوم بچوں نے اپنی جانوں سے ادا کی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں غیر محفوظ عمارتیں قیمتی جانیں نگل گئی ہوں، مگر افسوس کہ ہر سانحے کے بعد صرف تحقیقات، بیانات اور وعدے سامنے آتے ہیں، جبکہ عملی اقدامات وقت کے ساتھ فراموش ہو جاتے ہیں۔ اگر اس بار بھی یہی ہوا تو آنے والے دنوں میں کوئی اور اسکول، مدرسہ یا ٹیوشن سینٹر کسی اور خاندان کی خوشیاں چھین لے گا۔یہ سانحہ حکومت، متعلقہ اداروں اور معاشرے سب کے لیے ایک وارننگ ہے۔ تعلیمی اداروں، ٹیوشن سینٹرز اور دیگر عوامی عمارتوں کا فوری حفاظتی آڈٹ کیا جانا چاہیے، غیر قانونی اور خستہ حال عمارتوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے، اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی جرأت نہ ہو۔ کاہنہ کے یہ معصوم بچے صرف اعداد و شمار نہیں تھے۔ ان کے خواب تھے، خواہشیں تھیں، والدین کی امیدیں تھیں اور ایک روشن مستقبل تھا۔ ان کی جدائی کا غم کبھی کم نہیں ہوگا، مگر اگر ہم نے اس سانحے سے سبق سیکھ لیا اور اپنے نظام کو بہتر بنایا تو شاید ان کی قربانی آئندہ کئی قیمتی جانوں کو بچانے کا سبب بن جائے۔

اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، زخمی بچوں کو کامل شفا دے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔