کراچی: لیاری ٹاؤن کے مستعفی چیئرمین ناصر کریم بلوچ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کروڑوں روپے کی مبینہ گڑبڑ کا معاملہ اعلیٰ قیادت تک جا پہنچا ہے۔ ان کے مطابق انہیں پیپلز پارٹی نے نامزد کیا تھا، تاہم وہ بعض افراد کی مبینہ ڈیمانڈز پوری نہ کرنے کے باعث دباؤ کا شکار رہے۔
ناصر کریم بلوچ کا کہنا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) سے ملنے والے تقریباً ڈیڑھ ارب روپے لیاری کی خستہ حال سڑکوں اور گلیوں کی مرمت پر خرچ کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق ایک بااثر شخصیت کی ہدایات پر قیادت نے ان سے استعفیٰ طلب کیا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بطور چیئرمین انہیں ہر کام کے لیے اجازت لینا پڑتی تھی جبکہ متعلقہ افسران فنڈز کے اجرا میں رکاوٹیں ڈالتے رہے۔ ناصر بلوچ نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے بھی انہیں کام کرنے سے روکا اور مختلف اداروں کو ان کی ہدایات ماننے سے باز رکھا گیا۔
مستعفی چیئرمین کے مطابق ان کے پاس مزید معلومات بھی موجود ہیں جو وہ مناسب وقت پر سامنے لائیں گے۔ انہوں نے گورننس کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کارکردگی بنیاد تھی تو دیگر ذمہ داران سے پہلے جواب طلبی ہونی چاہیے تھی۔
دوسری جانب ان الزامات پر پیپلز پارٹی یا متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
















Add Comment