بات اگر کہنے کی نہیں ہے تو بات چپ رہنے کی بھی نہیں ہے کہ آج کا میڈیا سلو پوائزن ہے جو سوئیٹ کینڈی کے ریپر میں لپیٹ کر ہماری رگوں میں بے حیائی کی آبیاری کر رہا ہے ۔
ایک طرف اخلاقی اقدار کو روندتے ،رشتوں کے تقدس کو پامال کرتے ڈرامے، تو دوسری طرف جہازی سائز کے اشتہاری بورڈ ،کہیں اسٹیٹس پر وائرل ہوتی ٹک ٹاک ،وی لاگ کے نام پر ذاتی معلومات کی تشہیر اورکہیں ٹرینڈ کے نام پر اوٹ پٹانگ ویڈیوز جن کا نتیجہ “جیسے چاہو جیو„ ” سب کہہ دو“ اور ”میری مرضی “جیسی اخلاقی پستی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔
اخلاقی تباہی کی یہ داستان راتوں رات رقم نہیں کی گئی بلکہ نسل نو کی تباہی کا یہ نوحہ وہاں سے شروع ہوا جب تلاوت کی جگہ میڈیا کے پیش کردہ مارننگ شوز، شام کے مقبول لمحات میڈیا کے سائے میں اور رات کے لیے انٹرٹینمنٹ کی ایک دنیا بانہیں پھیلائے منتظر ،بس وہیں روز و شب بسر کیجئے پھر کہاں کی سحر خیزی اور کون سے نالہ نیم شب۔ نتیجہ بے برکتی ،ڈپریشن انزائٹی، خوف، اداسی اور مردہ دلی۔ پھر یہ بے ضمیر ،مردہ دل ،رشتوں کے احساس سے عاری افراد ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کیا کریں گے ۔
خدارا ہوش کے ناخن لیں۔
معماران جہاں کا کام ان کرگسوں کے ہاتھوں کھلونا بننا نہیں ۔اس سے پہلے کہ پانی سر سے اونچا ہو اس میڈیا کو اقدار اور اخلاق کا پابند بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیں ورنہ آسمانوں میں اڑنے والا آج کا شاہین غاروں کی پستی میں جا گرے گا اور پھر ہماری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
















Add Comment