جب ایک مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ نہیں ملتا یا مالک کا رویہ ہتک آمیز ہو جاتا ہے، تو وہ احتجاج کا ایک خاموش راستہ اختیار کرتا ہے جسے عام زبان میں ’ڈنڈی مارنا‘ کہتے ہیں۔ یہ کوئی قانونی ہڑتال نہیں ہوتی، بلکہ کام کے دوران کی جانے والی وہ چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں ہیں جو مالک کے لیے بڑے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔
جیسے کام کی رفتار میں کمی کرنا. جب مالک سر پر سوار ہو کر بے جا حکم چلاتا ہے، تو مزدور پہلا کام یہ کرتا ہے کہ اپنی رفتار سست کر دیتا ہے۔ وہ کام جو ایک گھنٹے میں ختم ہو سکتا تھا، اب تین گھنٹے لیتا ہے۔ مالک کو بظاہر لگتا ہے کہ کام ہو رہا ہے، لیکن پیداواری صلاحیت آدھی رہ جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ آلات اور مشینری کا ’اتفاقیہ‘ خراب ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ تنگ آکر مزدور اکثر مشینوں کے ساتھ ایسی باریک چھیڑ چھاڑ کرتا ہے کہ مشین چلتے چلتے رک جاتی ہے۔ کبھی کوئی نٹ ڈھیلا کر دیا تو کبھی تیل ڈالنا بھول گئے۔ اس سے اسے آرام کا وقت مل جاتا ہے اور مالک کو مرمت کا بھاری بل بھرنا پڑتا ہے۔
یا مزدور کبھی غیر حاضری اور بہانے بازی سے بھی کام لینے لگتا ہے۔ جب کام کا ماحول زہریلا ہو جائے، تو مزدور کی طبیعت اچانک خراب رہنے لگتی ہے۔ کبھی گھر میں ایمرجنسی تو کبھی دور کے رشتے دار کی فوتگی۔ یہ غیر حاضریاں دراصل ذہنی تناؤ کا ردعمل ہوتی ہیں، جس سے کام کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔مزدور کبھی کبھی مالک کی خوشامد کر کے بھی کام چلا لیتا ہے۔ بعض مزدور مالک کے سامنے تو بہت جی جی کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی مالک کی نظر ہٹی، وہ کام ادھورا چھوڑ کر موبائل فون یا گپ شپ میں لگ جاتے ہیں۔ وہ معیار پر سمجھوتہ کرنے لگتے ہیں، جو طویل مدت میں کاروبار کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ نتیجتا” مالک کو بھاری مالی نقصان پہنچتا ہے۔ اس کا کاروبار تباہ ہو جاتا ہے۔
اگر سارے سرمایہ دار مزدور کو عزت دیں تو وہ کام میں ڈنڈی نہیں مارےگا۔ ڈنڈی مارنا مطلب کام میں کوتاہی کرنا دراصل ایک نفسیاتی دفاع ہے۔ مالک کو سمجھنا چاہیے کہ مزدور کوئی مشین نہیں بلکہ انسان ہے۔ جب آپ اسے عزت نہیں دیتے یا اس کا استحصال کرتے ہیں، تو وہ اپنے نقصان کا بدلہ کام چوری سے لیتا ہے۔ ایک خوش حال اور مطمئن مزدور کبھی ڈنڈی نہیں مارتا، کیونکہ وہ اس کام کو اپنا سمجھتا ہے۔اس کی عام مثال گھر میں کام کرنے والی ماسی بھی ہے۔ اگر ایمانداری سے تناسب نکالا جائے تو بہترین کام کرنے والی ماسیوں کی تعداد صرف 10 فیصد ہوگی، جن سے ان کی باجیاں ، مالکنیں خوش اور مطمئن ہوں گی۔
ورنہ ہر خاتون خانہ کاموالی کی شکایت ہی کر رہی ہوتی ہے۔ زرا نظر بچی تو یہ ڈنڈی مارنے سے باز نہیں آتیں۔ اسی لیے ہر مزدور کے ساتھ دل میں خوف خدا رکھ کر معاملہ کرنا چاہیے۔ تا کہ ہم اللہ کی پکڑ سے بچ سکیں۔
















Add Comment