مدینہ میں حالیہ کھدائی اور آثارِ قدیمہ کی تحقیق کے دوران مسجد جمعہ کے شمال میں ایک اہم تاریخی مقام کی نشاندہی کی گئی ہے، جسے صحابی رسول حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مقام مسجد جمعہ اور مسجد قباء کے قریب واقع ہے، جہاں حالیہ سروے اور باڑ بندی کے دوران سیرتِ نبوی سے جڑا ایک اہم نشان سامنے آیا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ بنی سالم بن عوف خزرجی سے تعلق رکھتے تھے اور اسی علاقے میں مقیم تھے۔
حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور بارش یا سیلاب کے دنوں میں مسجد نبوی تک پہنچنا ان کے لیے مشکل ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ان کے گھر میں نماز ادا فرما دیں تاکہ وہ اسی جگہ کو نماز کی جگہ بنا سکیں۔
روایات کے مطابق نبی کریم ﷺ ان کے گھر تشریف لائے اور ان کی نشاندہی کردہ جگہ پر نماز ادا فرمائی، جس کے بعد یہ مقام اسلامی تاریخ میں ایک خاص نسبت اختیار کر گیا اور بعد میں اسے “مسجد عتبان” کے نام سے بھی یاد کیا گیا، اگرچہ یہ اصل میں ان کے گھر کا وہ حصہ تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
اس واقعے کو سیرتِ نبوی کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ اسلام کی آسانی، رحمت اور صحابہ کرام کی محبتِ رسول ﷺ کی ایک روشن مثال پیش کرتا ہے، جو آج بھی عقیدت اور تاریخی اہمیت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔












Add Comment