بھانجے کا فون تھا ۔
ایک فارماسوٹیکل کمپنی کا محنتی اور ایماندار لڑکا جو دن رات محنت کر رہا ہے ۔ پچاس ہزار تنخواہ ،کرائے کا گھر ،دوبچے ، زندگی آسان نہیں ۔ اور اس پر یہ واقعہ ۔ خالہ کل گھر آتے وقت پھر پیسے چھن گئے ۔ بیس ہزار مالک مکان کو دینے تھے ۔
“تم نے آن لائن کیوں نہیں دئے ۔ ”
وہ کیش لیتے ہیں ۔ آن لائن انہیں نہیں آتا ۔
“دو لڑکے تھے بائک پر ، ٹی ٹی کے آگے میں کیا کرتا ”
“افسوس ”
اب پورا مہینہ بلکہ آگے کے بہت سے مہینے اسی کو بیلینس کرنے میں نکل جائیں گے ۔
کراچی میں اس طرح کے واقعات معمول بن چکے ہیں غلطی سے بھی پیسے جیب میں رکھ کر چلنا اذیت بن گیا ہے ۔ یا تو رقم بچانے کے لئے جان سے جاو،بے رحم گولی کا نشانہ بنو یا پھر چون و چرا کئے بغیر رقم ان ڈاکوؤں کو دے دو ۔ رات کا ندھیرا ہو یا دن کی روشنی، بھرا بازار ہو ،سگنل ریڈ ہو ،کسی گڑھے میں گاڑی کی اسپیڈ کم کی ہو ،گلی میں گھر کے سامنے رکے ہوں ،اچانک ہاتھ میں اسلحہ لئے ہوئے ظالم نمودار ہوتے ہیں ،کاروائی کرتے ہیں اور بغیر کسی خوف کے ،کسی پولیس کے ڈر کے آرام سے بائیک اڑاتے ہوئے چلے جاتے ہیں ۔
دنیا کے کسی ملک میں کھلے عام اتنا ظلم نہیں ہوتا ۔ اور اس پر کوئی پوچھنے والا نہیں ،کوئی قانون کی گرفت نہیں ،کوئی پولیس نہیں ۔ خاص اوقات میں پولیس جان بوجھ کر غائب ہوجاتی ہے ۔ انڈسٹریل ایریا میں تنخواہ والے دن پولیس چوکیوں پر ہوتی ہی نہیں اور گنی چنی رقم ،مہینے بھر کی کمائی ،آسانی سے لٹ جاتی ہے ۔ کراچی کے ارباب اختیار اتنے بےحس ہیں کہ کسی واقعہ کا کسی حادثے کا کوئی نوٹس نہیں لیتے ۔ مئیر کہتے ہیں سب کچھ بہت اچھا ہے ۔ کس سے فریاد کریں کہاں جائیں ۔ کب تک یہ لوٹ مار اور بد امنی ہمارا مقدر رہے گی ۔
نوجوانوں کی مایوسی کا کیا حل ہے ۔ جو بے رحم لوگ ہم پر مسلط ہیں انہیں نہ آخرت کی جوابدہی کا احساس ہے نہ آئینے میں اپنی تصویر دیکھنے کی فرصت ۔ خود پر مسلط ان غیر منتخب لوگوں کو ہٹائے بغیر کراچی میں امن اور سکون ممکن ہی نہیں۔ اہل اور باصلاحیت ذمہدار لوگوں کو منتخب کرنا اور ایک صاف ستھرے اور امانت دار نظام ہی کراچی کے اچھے مستقبل کی ضمانت ہے ۔
کراچی کے لوگو
نوجوانو
اٹھو اور اہل لوگوں کو اس شہر کی کنجیاں تھماو
وقت کی آواز یہی ہے
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی
















Add Comment