اس نے کبھی اپنے گھر والوں کو خوش حال نہیں دیکھا بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے زندگی کی ہر دھوپ اور چھاؤں کا مزہ بخوبی چکھ لیا تھا۔۔ کبھی کوئی بھائی شدید بیمار ہوگیا تو ساری تنخواہیں اسکے علاج معالجے پر خرچ ہوگئی۔کبھی کوئی عید ایسی بھی آئی کہ گھر میں بہن بھائیوں کے نئے جوڑے نہ بن سکے، امی نےاپنی پرانی ساریاں اور پرانے کپڑوں سے، ساری بہنوں کے بہترین جوڑے سی دیے دل خوش ہوگیا مگر باہر سہیلیوں کے نت نئے فراک اور عمدہ پرس دیکھ کر دل میں عجیب سی احساس کمتری نے دل میں جگہ بنا لی۔
یوں تو بچپن سے امی ابو نے سبھی بھائی بہنوں کو عاجزی و انکساری سکھائی دین ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی کپڑوں میں پیوند لگا کر پہنتے چٹائی پر سوتے فاقے ہوتے غرض جب رحمت اللعالمین نے سادگی پہ شکر کیا تو ہم تو پھر بھی خوش حال ہیں ۔ وہ بہت سمجھدار ہوچکی تھی اور جب نبی کی زندگی کو دیکھتی تو اسے سادگی سے واقعی رشک آنے لگا تھا اصل ٹھکانا تو جنت ہے آخرت ہے اور دنیا تو مسلمانوں کے لیے قید خانہ ہے پھر کیا ضرورت ہے غربت کا رونا رونے کا۔۔ اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ آئے دن اخباروں اور چینلز پر غربت اور بے روزگاری سے خود کشی کرنے والوں کی کہانیاں کیسے سامنے آتی ہیں ۔ لوگ اللہ پر بھروسا کیوں نہیں کرتے؟ اللہ کے آگے کیوں نہیں گڑ گڑاتے،ایک بار اللہ سے سچے دل سے مانگ لیتے تو مدد ضرور آتی ،جیسے اسکے پاس آتی تھی۔۔ اللہ تو مایوس دلوں کا سہارا ہے۔۔وہ ایسی ہی تھی اس کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا وسیلہ اللہ ہی تھا ۔
اس نے جوانی کی آدھی بہاریں تو دیکھ ہی لی تھیں اب وہ بہت حد تک سمجھدار ہوگئی تھی یا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ صابر و شاکر ۔۔شادی اور پھر بچوں کی زمہ داریاں اسے غربت بہت چھوٹی چیز لگنے لگی تھی ایک عورت ہونے کہ اعتبار سے اسکے گھریلو مسائل اسکے لیے اب ایک بڑا چیلنج بن چکے تھے کہیں کسی کام میں سو فیصد دینے کی تھکن تو کبھی لوگوں کے پل پل بدلتے رویوں سے گھبراتی ہر دن ایک نیا محاذ سر کرنا پڑتا۔۔ اسے زندگی بہت بڑی آزمائش لگتی تھی ۔۔تمام تر کوششوں اور نیک جذبات کے باوجود وہ کبھی لوگوں کی پسند پہ نہیں اترتی تھی۔۔
ایک دن اچانک اسے ایک بچھڑی سہیلی کا فون آگیا حال احوال کے بعد کچھ گھریلو معاملات پر بھی بات ہوئی تو وہ اپنی باتیں کہتے ہوئے گھبرانے لگی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے بات کرے اسکے برعکس اسکی سہیلی بہت پر اعتماد انداز میں اپنی ساس اور نندوں سے دوستانہ ماحول کی بات کر رہی تھی۔۔اور چہکتی نظر آرہی تھی ، کچھ توقف کے بعد اس نے پوچھ ہی لیا کہ بھلا کیسے تم اتنی پُرسکون ہو ۔ وہ اسکی پچپن کی سہیلی تھی وہ اسکے سوال کے پیچھے چھپے راز کو بھانپ گئی۔۔ ارے عینی پُرسکون یا مطمئن رہنا کونسی بڑی بات ہے؟ انسان کو بس ذرا دل مارنا پڑتا ہے ، مروتوں کو زرا دیر کو کنارا کرنا ہوتا ہے،جہاں غلط ہو کسی کی پرواہ کیے بغیر بس اللہ کے لیے غلط کو غلط کہ دو ، جہاں پر احساس دلانا ہو وہاں خاموشی توڑ دو یہ بتاؤ کہ ہم بھی ایک انسان ہیں اور ہمارے بھی جذبات احساسات ہوتے ہیں ہمیں بھی باتیں اچھی یا بری لگی سکتی ہیں،ارام ہمارے لیے بھی ضروری ہے بلکہ زیادہ ضروری ہے۔۔ جمیلہ ہنسنے لگی ۔۔۔پھر سنجیدگی سے مخاطب ہوئی دیکھو عینی ! دل کو صاف رکھتے ہوئے یہ فارمولا آزماؤ پھر دیکھنا لوگ جیسے بھی ہوں انکے اور آپکے درمیان جو خلاء ہے وہ ختم ہو جائے گا سسرال اور میکہ ایک لگنے لگے گا، اس میں کونسی مہارت ہے؟ تم کر کے دیکھنا۔۔کچھ ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد اس نے فون رکھ دیا ۔
اسے اپنی سہیلی کی بات سمجھ تو آگئی تھی مگر اس پرعمل کرنا اس کے لیے انتہائی مشکل کام تھا یوں تو زندگی کے ہر مسئلے کا سامنا بڑے ہمت و حوصلے سے کیا لیکن یہ ایسا کٹھن کام تھا جو اسکی سادہ طبعیت و شرافت پر بڑا بھاری گزرتا ۔ لوگوں کے رویے کا خوف خصوصاً سسرال میں بے وقعتی ایک با ہمت تعلیم یافتہ عورت کو بھی کمزور سے کمزور تر بنا دیتی ہے۔اسکی تمام تر خوبیوں صلاحیتوں کو ماند کر دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے کا یہ مزاج بن چکا ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں جب لڑکی بیاہ کر جاتی ہے تو اسے دوربین کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے ۔ والدین بیٹے کے معاملے میں تحفظات کا شکار ہوجاتے ہیں اور عجیب سے شک و شبہات کی فضا قائم ہو جاتی ہے ۔ ساس بہو کے لیے وہ ہمدردی کبھی نہیں دکھاتی جو اسے اپنی بیٹی سے وابستہ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بہو (اگر نرم دل اور بھولی) ہو تو عمر بھر غیر اعتمادی کی زندگی بسر کرتی ہے ۔۔ محبت اہمیت نہ ملنے کا دکھ اپنی جگہ اپنی صلاحیت کو کھو دینے کا ملال بھی ساتھ رہتا ہے۔ مرد اگر دیندار ہو اور دین اسلام کو بہتر سمجھتا ہو تو ضرور اپنی بیوی کے حق میں ماحول ساز گار بناتا ہے اگر مرد بے دین ہو تو عورت ساری عمر چکی میں پستی ہے، دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر گھرانوں کا اب یہی احوال ہے ۔
















Add Comment