اوہو ! امی آپ کو کیا پتا آجکل یہی چل رہا ہے۔
ابو آپ کو نہیں معلوم حالات کا آپ پرانے وقتوں کی باتیں کرتے ہیں۔
یہ سب اب آوٹ آف فیشن ہے۔
یہ تو ٹرینڈنگ ہے ۔۔۔
ہماری طرح ہمارے بچے بھی والدین کو پرانے زمانے بلکے موئن جو دڑو کی مخلوق سمجھتے ہیں مگر اب جو دور چل رہا ہے وہ تو واقعی کچھ اتنا تیز اور آگے ہے کہ اگر ہمارے بچے بھی اس کے ساتھ ایک دن نہ چلیں تو آوٹ آف فیشن بلکہ( آوٹ آف دِس ورلڈ)اس دنیا سے ہی باہر ہو جائیں.
کیونکہ ہر نیا دن ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کروا رہا ہے اور جو اس نئی ٹیکنالوجی سے نا بلد ہے وہ پرانے زمانے کا کہلائے گا۔اس نئی ٹیکنالوجی اور بدلتی ہوئی دنیامیں گُم ہوتی نظر انداز اقدار ہماری نسل کو انتہائی غلط سمت لے جارہی ہیں ،جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ہم فوری طور پر ان معاملات کو نہیں بدلیں گے تو ہماری نسل اپنا دین ،مذہب ،زبان ،اخلاق اور رشتوں کو بھول جائے گی۔ سب سے پہلے ٹرینڈنگ چیزوں کو ختم کرنا ہے کیونکہ ٹِک ٹاک انسٹاگرام اور فیس بک جیسی سوشل میڈیا ایپس کو اگر تعلیمی اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو قابلِ قبول ہے لیکن صرف اپنا بےجااسٹیٹس دکھانے اور بے راہ روی پھیلانے، وقت ضائع کرنے کیلیے استعمال کیا جائے تویہ صرف فتنہ ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“ان لوگوں کے ساتھ نہ ہو جو کفر اختیار کر نے والے ہیں .”
اگر باہر گھومنا پھرنا خاص طور پر راتوں کو ٹرینڈ ہے تو یہ بھی ہمارے مذہب اور اقدار کے خلاف ہے ۔ ہر معاشرے کے الگ اقدار ،رہن سہن اور اصول و ضوابط ہیں ،اگر ان کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی کریں گے تو نقصان میں رہیں گے۔
ٹِک ٹاک پر اچھلتے تھرکتے بچے جوان اور بوڑھے کس ڈگر پر چل نکلے ہیں وقت کو فضول چیزوں میں ضائع کررہے ہیں جبکہ ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو کسی منفی اور بے کارسرگرمیوں سے گہن لگا رہے ہیں۔
ذرا سوچیے !
آخریورپی ممالک کو آئیڈیلائز کیوں کیا جارہا ہے؟
جبکہ وہاں دین بھی الگ ہے ،تعلیم بھی الگ ہے اور ماحول بھی الگ تو پھر ہماری نسلیں ان کی تقلید کو باعثِ فخر کیوں سمجھتی ہیں جبکہ یہی بنیادی چیزیں انسان میں تفریق اور شعور پیدا کرتی ہیں ۔ اگرچہ تقلید کرنی ہی ہے تو انکی تحقیقی اور سائنسی ترقیاتی صلاحیتوں کی، کی جائے ،سائنس اور ٹیکنالوجی کو مرکز بنایا جائے۔ ہمارا دین ہمیں حدود کی پاسداری ،حرام و حلال میں فرق کرناسکھاتا ہے،وقت کی قدر ،اپنی عزت و ناموس کی حفاظت اورامن و اتحاد جیسے بنیادی فرائض و ادائیگی کا پابند کرتا ہے اور یہی پابندیاں اور اصول انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہیں، جبکہ دیگر معاشروں میں حدود کو پابندی مانا جاتا ہے ، جبکہ حدود اور نظم و ضبط انسانی بقاء کیلئے بہت اہم ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ہمیشہ وقت کی پابندیوں اوراصول و ضوابط جیسی عادات اختیار کرتے ہیں ۔جاپان ان ممالک میں سر فہرست ہے ۔
اگر واقعی ہمیں اپنے ملک و قوم کو ترقی کی طرف گامزن کرنا ہے تو فوری عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے .بچوں اور بڑوں سب کو تیزی سے بدلتی دنیا کے علوم تک بہ آسانی دسترس اور اہمیت کا احساس دلانا ضروری ہے ،تاکہ اس قوم کے بچے نوجوان اور بزرگ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹھیک سمت اپنا کردار ادا کریں۔
















Add Comment