نرگس رات کی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر ہوسٹل کی طرف جانے کے لئے ہسپتال سے نکل رہی تھی کہ سامنے والی شاندار گاڑی پر اس کی نظر پڑی.
ایک شخص نکلا اور دوسری طرف آکر اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا. بڑے پیار سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی خاتون کا ہاتھ پکڑا اور سہارا دے کر گاڑی سے باہر آنے میں مدد کی،
“آرام….. آرام سے!”
خاتون نے مسکرا کر بڑی ادا سے کہا،
“آپ تو میرے نخرے یوں اٹھا رہے ہیں گویا یہ ہمارا پہلا بچہ ہو ـ”
پھر وہ گاڑی کو لاک کرکے ہسپتال کے داخلی دروازے کی طرف بڑھا ،نرگس فوراََ پلٹی کہ جمیل کی نظر اس پر نہ پڑ جائے.
یقیناً یہ وہی جمیل تھا جو کبھی اس کی زندگی کا ہم سفر تھا لیکن اس نے اسے مالی کمزوری کی وجہ سے دھتکار دیا تھا. آج اسے دیکھ کر اس کا درد اور پچھتاوا مزید بڑھ گیا تھا. اگرچہ گزرتے وقت کے ساتھ اسے اپنی غلطی کا احساس تو ہونے لگا تھا لیکن آج اسے شدت سے جمیل کو چھوڑنے احساس ہوا تھا.
وہ ہوسٹل کے کمرے میں آکر اپنے پلنگ پر ڈھےگئی. اس کی آنکھوں سے برسنے والے آنسو اس کے ادرونی کرب کو ظاہر کر رہے تھے، جس کا آج سے پہلے اسے اتنی شدت سے احساس نہیں ہوا تھا جس طرح آج ہوا تھا. اگرچہ وہ رات بھر کی تھکی ہوئی تھی کہ ہوسٹل پہنچ کر وہ آرام کرے گی لیکن اب نیند اس سے کوسوں دور تھی، وہ چند سال پیچھے اپنے ماضی میں جھانک رہی تھی ـ
دیکھو نرگس بیٹا ایک درخت میں اگنے والے پھولوں کا نصیب بھی جدا جدا ہوتا ہے ، تم کیوں اپنی سہیلی عطیہ سے ریس کر رہی ہو تمہیں بھی رب العزت وقت آنے پر خوب نوازے گا بلکہ اصل چیز تو شوہر کی محبت ہوتی ہے.
امی عطیہ اور میں پڑوسی اور ہم جماعت سہلیاں تھیں ہمارے معاشی حالات عطیہ کے گھر والوں سے قدرے بہتر ہیں پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا اس شخص کے پاس نہ میرے لئے وقت ہے اور نہ مجھے گھمانے پھرانے کے لئے گاڑی تک نہیں ہے۔ آفس سے آنے کے بعد اس کا آدھا دن تو ماں بہن کی خدمت میں گزر جاتا ہے عطیہ بڑے بنگلے میں عیش سے رہتی ہے وہ اپنی ماں کے گھر بڑی سی گاڑی میں آتی ہے ـ
دیکھو نرگس بیٹا جمیل انتہائی محنتی اور اچھا لڑکا ہے
ان شاءاللہ اس کے حالات بھی اچھے ہو جائیں گے وقت کا انتظار کرو۔ ــــ
نرگس پر ماں کے سمجھانے کا کچھ اثر نہ ہوتا ،دن بھر شوہر اور ساس سے اُلجھتی رہتی ، اخر ان لڑائی جھگڑوں کا نتیجہ طلاق تک پہنچ گیا جمیل اسے طلاق دینا نہیں چاہتا تھا لیکن نرگس اسے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ـ
طلاق کے بعد وہ اماں کے گھر آگئی ، دونوں چھوٹے بھائیوں کو اب اس کی فکر تھی ماں نے بھی اس کی دوسری شادی کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دئیے لیکن اب اس مطلقہ کے لئے شادی شدہ اور بچوں والے مردوں کے ہی رشتے آرہے تھے جو اسے کسی طرح منظور نہ تھا ــ
اسے تو ہر صورت میں ایسا شوہر چاہیے تھا جو جمیل سے ہر لحاظ سے اعلیٰ ہو اور غیر شادی شدہ بھی ہو ،لیکن ایک مطلقہ عورت کے لئے اب ایسا رشتہ ملنا مشکل ہوتا ہے ـــ دوسری طرف لوگوں کے طعنے اور باتیں سن کر اسے افسوس
بھی ہوتا آخر مجبوراً اس نے نرسنگ کا کورس کرکے ایک ہسپتال میں نوکری شروع کر دی ــ
وقت کی ڈور ہاتھوں سے نکلتی گئی دونوں بھائیوں کی بھی شادی ہوگئی ،جب تک اماں زندہ تھی تو پھر بھی گھر کے معاملات بہتر تھے لیکن اماں کے انتقال کے بعد حالات پہلے جیسے نہیں رہے بھابھیوں کے ساتھ اس کی کشیدگی بڑھتی گئی آخر اس نے ہسپتال کے ہوسٹل میں رہائش اختیار کر لی ـ کبھی کبھار بھائیوں سے ملنے چلی جاتی یا بہن سے ملاقات ہو جاتی ــ
کبھی پیچھے مڑ کر ماضی میں دیکھتی تو سوائے دکھ کے کچھ نہ ملتا ،اج دس سالوں کے بعد جمیل کو دیکھا تو تمام پچھلی یادیں سامنے آتی گئی ـ
ماضی کا ایک ایک صفحہ اس کے سامنے آتا گیا ــــ
نرگس مجھے تھوڑا وقت دو بہن کی شادی کی زمہ داری پوری ہو جائے تو میں تمہیں تمہاری ساری خوشیاں دوں گا اور ویسے بھی تمہیں اس گھر میں کوئی تکلیف تو ہے نہیں اپنی مرضی سے زندگی بسر کر رہی ہو میں تم سے پیار کرتا ہوں امی تمہیں بالکل بیٹیوں کی طرح سمجھتی ہیں.
ماضی کے صفحات پلٹتی گئی تو ہر صفحے پر آج اس نے اپنے آپ کو ہی قصوروار پایا.
“نرگس یہ نا ممکن ہے کہ میں ماں بہن کو بے آسرا چھوڑ کر تمہیں الگ گھر لے کر دوں. ویسے بھی میں ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ تمہاری ہر جائز ناجائز فرمائش پوری کرتا رہوں ،اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے اور میرا تھوڑا سا بھی خیال ہے تو ہر حال میں تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا. ورنہ آج سے ہمارے راستے جدا ہیں. ”
جمیل کی بات سنکر ڈھٹائی سے اسے علیحدگی کا فیصلہ سناکر اس گھر سے نکل آئی ہمیشہ کے لئے ـ
زندگی کی گھڑیاں بیتی گئیں. کوئی شخص بھی اسے جمیل سے بہتر نہ مل سکا.
اب تو دن بھی ڈھل چکا تھا. شام کے سایوں نے اس کے گرد ڈیرہ جمانا شروع کر دیا تھا ـــ جمیل کو دیکھ کر گویا اس کے زخم پھر سے تازہ ہو گئے تھے. آج اس کے آس پاس کوئی ایسا نہ تھا جو ان زخموں پر مرہم رکھ سکے۔ اس کے دل میں دبی دبی سسکیاں اس کے اطراف ہی گونج رہی تھی .اب صرف پچھتاوے کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہ تھا.
” کاش میں تھوڑا انتظار کر لیتی تو جمیل کے ساتھ آج میں ہوتی ـــــ”
















Add Comment