Home » blog page » ضمیر کی پستی کا نوحہ ۔ عشرت زاہد
بلاگ

ضمیر کی پستی کا نوحہ ۔ عشرت زاہد

کائنات کے ماتھے پر چمکتا ہوا پسینہ دراصل وہ مقدس عرق ہے جس سے تہذیبوں کی آبیاری ہوتی ہے۔ مزدور وہ فنکار ہے جو اپنے تیشے سے سنگِ گراں کو کاٹ کر زندگی کا راستہ بناتا ہے۔ وہ صبح کی پہلی کرن سے پہلے اپنی بھوک کو مسل کر کام پر نکلتا ہے اور شام کی سیاہی پھیلنے تک اپنے بدن کا ایندھن اس سماج کی بھٹی میں جھونک دیتا ہے۔ اس کے ہاتھ کی پوریں پکار پکار کر کہتی ہیں کہ اِس دنیا کی تمام تر رعنائیاں، یہ بلند و بالا ایوان اور یہ چمکتی شاہراہیں کسی معجزے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ہارے ہوئے انسان کی جاں گسل محنت کا ثمر ہیں۔

مگر افسوس! اسی خونِ جگر سے پرورش پانے والا سرمایہ دار طبقہ حرص و آز کی مٹی سے گوندھا گیا ہے۔ مالک کی نظر میں مزدور کا وجود گوشت پوست کا انسان نہیں، بلکہ محض ایک ‘پرزہ’ ہے جسے زیادہ سے زیادہ منافع نچوڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ استحصال کا المیہ یہ ہے کہ جب محل تعمیر ہو جاتا ہے تو معمار کو دہلیز پر قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مالک اپنے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اس مزدور کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے جس نے دھوپ میں جل کر ان کمروں کو ٹھنڈک بخشی تھی۔
یہ وہ نظام ہے جہاں پسینہ سونا پیدا کرتا ہے، مگر خود پسینہ بہانے والا تانبے کے چند سکوں کو ترستا ہے۔ سرمایہ دار کی تجوریاں جب مزدور کی سسکیوں سے بھرتی ہیں، تو معاشرے کی اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہونے لگتی ہیں۔ بقولِ شاعر،
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات
سچ تو یہ ہے کہ جب تک مزدور کے ہاتھ کی چھالوں کو معتبر نہیں مانا جائے گا اور جب تک مالک کے ہاتھوں سے استحصال کا تازیانہ نہیں چھوٹے گا، یہ دنیا صرف ایک مادی ڈھانچہ رہے گی، جس میں روحِ انسانی تڑپتی رہے گی۔

About the author

Avatar photo

Global Plus News

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply