خواتین چاہے شہر میں رہتی ہوں یا دیہات میں ملکی معیشت کے ساتھ بہت اہم تعلق ہے ۔ عورت جہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون ہے وہیں وہ ایک خاتون خانہ کی حیثیت سے بھی بہت ساری ذمہ داریاں انجام دیتی ہے ۔ بچے پالنا ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے.
ویسے تو ہمارے معاشرے میں گھر سے باہر نکلنے والی عورتوں کو اکثر اچھا نہیں سمجھا جاتا. ان کی نگاہ میں وہ اچھے کردار کی نہیں ہوتیں. اس کے باوجود خواتین کی ایک بڑی تعداد ملازمت پیشہ ہے. شہروں میں کم بڑی لکھی لڑکیاں اور خواتین گارمنٹس، ادویہ سازی اور غذائی اشیاء کی صنعتوں سے وابستہ ہیں. گارمنٹس اور فوڈ پروسیینگ کا کام گھروں پر بھی کیا جاتا ہے. اس کام میں دیگر جگہوں کی طرح یہاں بھی اجرت کا تعین یومیہ پیکنگ پر ہوتا ہے اور مجموعی اجرت کام کی مقدار پر طے ہوتی ہے. ایک جیسے کام کے لیے گھر پر کام کرنے والی خواتین کی اجرت رسمی سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین کی اجرت کے مقابلے میں خاصی کم ہوتی ہے۔ فیکٹریوں کے مالکان کم رقم دے کر زیادہ رقم پر دستخط کروا لیتے ہیں. اگر وہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا تذکرہ کرتی ہیں یا آواز بلند کرتی ہیں تو انہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑ جاتے ہیں.
سخت بیماری کی حالت میں بھی وہ چھٹی نہیں کر سکتیں . ورنہ ایک دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے. پبلک سیکٹر میں اہلیت رکھنے والی خواتین کو کم حیثیت والے عہدے پر رکھا جاتا ہے . بڑے عہدوں پر مردوں کا تسلط آج بھی قائم ہے. بہت کم خواتین بڑے عہدوں پر پہنچ پاتی ہیں. اس کے علاوہ مردوں کے مقابلے میں کم تنخواہ پر رکھا جاتا ہے. انہیں میڈیکل الاؤنس بھی نہیں دیا جاتا پھر بھی خواتین ملک کی اقتصادی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں ہاں تعلیم یافتہ خواتین دفتروں میں اچھی پوسٹ پر فائز ہو جاتی ہیں۔ دیہات کی عورتوں کی صورت حال زیادہ افسوسناک ہے. انہیں جانوروں کی دیکھ بھال انہیں نہلانا دھلانا اور جانوروں کا دودھ دوہنے جیسے ضروری کاموں کی ذمہ داری بھی اٹھانی پڑتی ہے. وہ سخت دوپہر میں کھیتوں میں کام کرنے کے باوجود ان کی اجرت گھر کے مرد ہتھیا لیتے ہیں.
دور دراز کے علاقوں میں بہت سی خواتین اینٹوں کے بھٹوں پر بھی کام کرتی دکھائی دیتی ہیں انہیں بھی ٹھیکے دار بہت کم اجرت دیتے ہیں لیکن وہ غربت کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دے دو “(ابن ماجہ )
اور یہ بھی فرمایا:
“قیامت کے دن میں خود اس شخص کے مقابل ہوں گا جو مزدور سے کام لے اور پوری مزدوری نہ دے” ۔
ستم یہ ہے کہ اس کے باوجود محنت کش خواتین کو زمین، جائیداد ،سرمائے اور ملکیت کی تقسیم کے موقع پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کیا ان محنت کش عورتوں کو کبھی ان کا جائز حق نہیں ملے گا؟
یکم مئ صرف چھٹی کا دن نہیں بلکہ یہ یاد دہانی کرانے کا دن ہے کہ محنت کرنے والوں کا احترام کریں وہی تو قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے مزدوروں کو عزت دیتی ہیں ۔
،نارتھ کراچی
















Add Comment