“ساہ تو سب کو پیارا ہوتا ہے نا…”
بیٹیاں کتنی پیاری ہوتی ہیں موت سامنے نظر آرہی ہے. مگر دل میں ایک ہی فکر
“باپ کو کچھ نہ کہنا… وہ بے قصور ہیں…”
کتنی عجیب بات ہےنا؟
جس نے مارا، اس کے لیے بھی دل میں نرمی، جس نے بچانا تھا، اسی کے لیے قربان ہوگئی۔ اس معاشرے میں پتہ نہیں کتنی بیٹیاں باپ کی پگ کی بہت بھاری قیمت چکا رہی ہونگی ۔ باپ نے پگڑی قدموں میں رکھ دی. اور بیٹی… تو بیٹی ہوتی ہے .
وہ جانتی تھی:
“مجھے مار دیا جائے گا…”
پھر بھی چلی گئی. کیونکہ اسے اپنی جان سے زیادہ باپ کی “عزت” عزیز تھی۔اس خونی عزت کی کتنی قیمت چکائی اس کمزور جان نے۔ پاکستان میں اسے عام طور پر “کاری” کہا جاتا ہے، اور اس سے جڑی سوچ قبائلی و سماجی رسم ہے، دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں تو کسی ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے. اسے غیرت کا نام نہ دیں.
یہ غیرت نہیں… ظلم ہے
یہ عزت نہیں… قتل ہے
ایک بیٹی مار دی گئی اور ہم اب بھی لفظوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں. کیسے ہیں اپ کے قانون جو کمزور عورت کے لیے سہارا نہیں بن سکتے کیا فائدہ ایسی قانون سازی کا جب معاشرے میں عورت اتنی تنہا ہو۔
















Add Comment