جب آپ نے در شہوار لکھا تب سکھایا عورت قربانی دیتی ہے پھر گھر بستے ہیں ۔ لیکن کنکر لکھ کے یہ بھی بتایا کہ عورت کو کب کس موڑ پہ اسٹیپ لے لینا چاہئیے۔ پھر زندگی گلزار ہے لکھ کے گویا ہمیں شکر کا صحیح مفہوم سمجھادیا ۔ اور اب کفیل لکھ کے کفالت کرنے والوں کو سمجھایا کفیل کسے کہتے ہیں۔
اس بات کا بھی شکریہ کہ جب ہمارا معاشرہ اس دوراہے پہ کھڑا ہے جہاں مرد و عورت کے کردار ان کی ذمہ داریاں ان کے حقوق و فرائض سب کچھ خلط ملط ہورہا ہے۔ حقوق کی کھینچاتانی میں عورت اپنے فرائض بھول رہی ہے اور مرد ذمہ داریوں سے دامن چھڑا رہے ہیں وہاں زیبا اور جامی تخلیق کیے سچ تو یہ ہے کہ جامی کے کردار نے کتنی ہی عورتوں کے غم تازہ کردئیے اور زیبا کے کردار نےعورت کے ایک خوبصورت روپ کو تراشا کاش ہمارے زیبا اور جامی سمجھ جائیں کہ ان کا اصل کام کیا ہے۔کفالت کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے ؟ احادیث بتاتی ہیں بہترین صدقہ وہ ہے جو تم اپنے اہل و عیال پہ خرچ کرو ۔اور قرآن جا بجا بتاتا ہے کہ زمین میں گردش کرنے والے رزق حلال کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والے مرد کیسے ہوتے ہیں۔
کفیل صرف ایک ڈرامہ نہیں تھا ہمارے معاشرے میں چلتے پھرتے ہنستے بولتے کرداروں کی اصل کہانیاں تھیں ۔زیبا جیسی بیٹیاں غلطی کر بیٹھیں تو ماں باپ کو سزا نہیں دینی چاہئیے بلکہ غلطی کو سدھارنا چاہئے بچے غلط ٹریک پہ چل پڑیں تو ہاتھ سے پکڑ کے صحیح پٹری پہ چلانا بھی والدین کا ہی کام ہے یہ نہیں کہ اسی غلط ٹریک پہ دھکہ دے دیا۔ اور زیبا جیسی بیٹیاں !! والدین کی غلطی پہ ایک دفعہ شکوہ کرکے پھر اپنی بدقسمتی کو آزمائش سمجھ کے اس سے نبرد آزما ہوجاتی ہیں ۔
جدید معاشرہ جو ہمیں اب سکھا رہا ہے کہ خود اپنی ذات کے لیے جیو کسی کے لیے قربانی نہ دو ، جہاں اب صبر ،ایثار، آزمائش اور احسان کے رویے out dated ہوچکے ہیں. ان پہ بات کرنا بیوقوفی ہے.
صبر کا پھل مل کے رہتا ہے اور مشکل کے بعد آسانی ہے. جیسی باتیں Old Pattern لگتی ہیں وہاں زیبا نے بتایا کہ زندگی کا مفہوم اب بھی وہی ہے جیسے صدیوں پہلے تھا. غلط فیصلے کرنا الگ بات ہے لیکن قسمت کے لکھے کو کوئ نہیں ٹال سکتا . جو آزمائش آنی ہو وہ پھر آ کے رہتی ہے بات تو یہ ہے کہ اس آزمائش کو ہینڈل کیسے کیا شور شرابہ کرکے ،کوسنے دے کے ،یا گریس فلی حالات کا مقابلہ کیا؟
زیبا نے دوسرا آپشن اختیار کیا. جب اس نے دیکھا کہ اب واپسی کے راستے مسدود ہوچکے ہیں .پھر خاموشی سے کمر کس لی. نوکری بھی کی بچوں کی بہترین تربیت بھی کی اور خودداری سے زندگی بھی گزاری ۔چاہتی تو چار بچوں سمیت جوانی میں ہی ماں باپ کی دہلیز پہ آکے بیٹھ جاتی امیر بھائ اور بھابھی سے حسد کرتی میکے کا ماحول خراب کرتی امیر بہن سے مقابلہ کرکے بچوں کی شخصیت مسخ کردیتی لیکن اس نے خود کفیل بننا بہتر سمجھا ۔شوہر کے افئیرز بھی برداشت کیے بسوں میں دھکے بھی کھائے اور شوہر کی کڑوی کسیلی باتیں بھی سنیں ۔
عورت جب چالیس کی ہوجاتی ہے تب وہ پھر سے جوان ہوجاتی ہے، زیبا کو یہ جوانی اس کے بچوں نے دی۔ اس جوانی میں طاقت تھی بچوں کی سپورٹ کی طاقت جس میں میکہ کے تحفظ سے زیادہ طاقت ہوتی ہے یہ ہی طاقت زیبا کو بھی مل چکی تھی اور زیبا نے زندگی کے اس موڑ پہ علیحدگی کا فیصلہ کیا جب لوگ کہتے ہیں. ارے اس عمر میں طلاق !! آدھی گزار لی بقیہ بھی گزر جائے گی بچوں کا کیا ہوگا ان کے رشتے کیسے ہوں گے ؟
لیکن وہ زندگی کے کمزور لمحوں میں خود کو آزما چکی تھی سو اب فیصلہ لینا آسان تھا گو کہ ڈرایا اب بھی گیا لیکن اب پیچھے اولاد کھڑی تھی جو کہتی ہے Go Ahead Mama ! عمیرہ احمد آپ کا اس لیے بھی شکریہ کہ آپ نے سبک کا کردار لکھا ہم جو سمجھ بیٹھے ہیں بیٹے اکثر باپ کا پرتو ہوتے ہیں وہ باپ کا عکس بن کے پھر ماں کے لیے آزمائش بن جاتے ہیں آپ نے اس وہم کو جھٹلایا اور دکھایا کہ بیٹے ماں کے صبر کا پھل بھی بن سکتے ہیں اور صرف شوہر کفیل نہیں ہوتا ہر مرد کفیل ہوتا ہے چاہے وہ سبک ہو عثمان ہو یا جمال یا پھر سیف اور یہ بھی کہ سب مرد خراب نہیں ہوتے جمال کی شادی زیبا سے نہیں ہوسکی لیکن اس نے حبیبہ کو دل و جان سے چاہا.
اس سے وفا نبھائ اور ہاں وردہ کا کردار جو سب سے annoying تھا لیکن کس قدر گہرائی تھی اس میں ۔والدین کی بگڑی ہوئ اولاد پھر وہ چاہے لڑکا ہو یا لڑکی کوئ بھی زندگی کی کہانی میں اپنی اس disability کے باعث رنگ بھرنے سے محروم رہ جاتا ہے ۔بازار کے کھانے پسند کرنے والی ہٹ دھرم وردہ جسے رشتوں کی اصل طاقت کا احساس تب ہوتا ہے جب اس کے بہت اپنے اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ شکر ہے کسی نے تو یہ لکھا اور دکھایا کہ جنس بری نہیں ہوتی. مردو عورت دونوں کو اللہ نے احسن التقویم بنایا ہے دونوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے دونوں کو اختیار دے کے اور راستے کے چناؤ کا انتخاب دے کے بھیجا ہے ،سزا و جزا دونوں کو ملے گی بس کون اپنے کردار کیسے نبھاتا ہے یہ اصل امتحان ہے۔
گرمی کی دوپہریں ہیں میری بیٹی فلور کشن کی مدد سے گھر کے کونوں میں گھر بنارہی ہے. جب اس سے کشن نہیں سنبھلتے تب اس کے بھائ اور بابا بھاگ کے آتے ہیں اور جیسے وہ کہتی ہے ویسے ہی کشن سیٹ کر کے دیتے جاتے ہیں. زندگی ہمیشہ فیری ٹیل تو نہیں ہوتی لیکن کہانیوں میں اکثر اس لیے ہیپی اینڈ نگ دکھاتے ہیں کہ امید ابھی باقی رہے سو شہزادہ اور شہزادی ہنسی خوشی رہنے لگے والا اینڈ ہی اچھا ہے ۔
.
















Add Comment