یہ رنگ و نور اور محبتوں کا شہر آخر کیسے ویران بنایا جا رہا ہے؟
کراچی، روشنیوں کا شہر، ہمارا اپنا شہر، ہمارا گھر، ہمارے آباؤ اجداد کی امانت۔ یہ وہ شہر ہے جو کبھی امن، محبت اور خوشحالی کی علامت تھا۔ یہ وہ دھرتی ہے جس نے بے گھروں کو گھر دیا، بے روزگاروں کو روزگار دیا اور ہر آنے والے کو اپنے سینے سے لگایا۔ کراچی نے کبھی قومیت، زبان یا مسلک کی بنیاد پر کسی میں فرق نہیں کیا۔ ہر قوم اور ہر طبقے کے لوگ یہاں بے خوف ہو کر اپنے کاروبار، عبادات، تعلیم و تربیت اور گھریلو زندگی میں مصروف رہتے تھے۔
یاد کیجیے وہ سنہرے دن جب سڑکوں پر ٹرامیں چلتی تھیں، گھوڑا گاڑیاں اور یخچوں کی سواریاں عام تھیں۔ یومِ آزادی پورے جوش و خروش سے منائی جاتی تھی اور شہرِ قائد رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا اٹھتا تھا۔ لوگوں کے دلوں میں محبت تھی، چہروں پر اطمینان تھا اور مستقبل روشن دکھائی دیتا تھا۔
مگر آج سوال یہ ہے کہ آخر کن مفاد پرست عناصر نے کراچی کو لاوارث سمجھ لیا ہے؟ کیا وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی قربانیاں دے کر اس شہر کو آباد کیا، اس کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں، اپنے اس گھر کو لاوارث چھوڑ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہر انسان اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے، اسے سنوارتا اور نکھارتا ہے۔ پھر ہم کراچی کو، جو ہماری دھرتی ماں ہے، جس نے ہمیں پالا پوسا، تعلیم دی اور زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھایا، کیسے تنہا چھوڑ سکتے ہیں؟
آج کراچی کے باسی پانی کے ایک ایک قطرے کو ترس رہے ہیں۔ بجلی کی طویل بندش نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گیس کی قلت نے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں۔ کبھی چولہا جلتا تھا تو کھانا تیار ہو جاتا تھا، مگر اب گیس کا آنا کسی معجزے سے کم نہیں۔
جمعے کا دن ہے۔ مرد نمازِ جمعہ ادا کرکے گھر لوٹتے ہیں۔ امید ہوتی ہے کہ گھر پہنچ کر اہلِ خانہ کے ساتھ سکون سے کھانا کھائیں گے، مگر چولہے کی بے بسی ایک نئی آزمائش بن کر سامنے آ جاتی ہے۔ کڑھی ادھ پکی رہ جاتی ہے، چاولوں میں کنی باقی رہ جاتی ہے، بچے بھوک سے بے قرار ہوتے ہیں اور ماں انہیں تسلی دیتی ہے: “بیٹا! تھوڑا صبر کرو، شاید گیس آ جائے۔” مگر گیس کہاں؟ وہ تو جیسے قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ آخرکار بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہی ادھ پکا کھانا کھا لیا جاتا ہے۔
آج کراچی کے باسی صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی اذیت کا بھی شکار ہیں۔ دلوں سے آہیں نکلتی ہیں، آنکھوں میں سوال ہیں اور لبوں پر دعائیں۔
ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دستِ دعا بلند کرتے ہیں کہ اے ربِ کریم! کراچی کے مسائل حل فرما، اس شہر کی رونقیں واپس لوٹا دے، اس کے باسیوں کو سکون، خوشحالی اور آسانیاں عطا فرما۔اور اگر ہماری کوتاہیوں، ہماری غلطیوں اور ہمارے غلط فیصلوں نے ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے تو اے اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہمیں ایسے فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرما جو ہمارے شہر، ہمارے ملک اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ہوں۔
کراچی صرف ایک شہر نہیں، یہ ہماری شناخت، ہماری محبت اور ہماری یادوں کا امین ہے۔ اس کی ویرانی ہم سب کا درد ہے اور اس کی خوشحالی ہم سب کی ذمہ داری۔
















Add Comment