شرجیل خان نے بتایا کہ وہ لیگ میں ایک مضبوط کم بیک کے لیے پُرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انھوں نے گزشتہ دو برسوں میں اپنی فٹنس اور کھیل پر بھرپور محنت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل سے دو سال کی دوری ان کے لیے ایک چیلنج ضرور تھی، تاہم انہوں نے اس عرصے کو اپنی فٹنس بہتر بنانے اور کھیل کو مزید نکھارنے کے لیے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل وقفے کے بعد فوراً پرفارم کرنا آسان نہیں ہوتا، لیکن انہوں نے کم بیک کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور تیاری کی۔ شرجیل نے کہا کہ اس دوران انہیں یہ بھی اندازہ ہوا کہ پروفیشنل کرکٹ کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کے لیے کس نوعیت کی فٹنس اور روٹین درکار ہوتی ہے۔ یہ بات اگرچہ دیر سے سمجھ میں آئی، لیکن میرے کیریئر کے لیے نہایت اہم ثابت ہوئی۔
شرجیل خان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے دو برس میں اپنی فٹنس پر خاص توجہ دیتے ہوئے 28 کلوگرام وزن کم کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے ایک پروفیشنل ٹرینر اور ڈائیٹیشن کی مدد حاصل کی، جس سے نہ صرف وزن کم کرنے میں مدد ملی بلکہ ایک بہتر لائف اسٹائل اپنانے کا شعور بھی ملا۔ اپنی بیٹنگ پوزیشن میں تبدیلی پر بات کرتے ہوئے شرجیل خان نے کہا کہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق انہوں نے مڈل آرڈر میں کھیلنے کی تیاری کی۔ ان کے مطابق اسکواڈ فائنل ہوتے ہی انہوں نے تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے مڈل اوورز میں بیٹنگ کی پریکٹس شروع کر دی تھی تاکہ جہاں بھی ٹیم کو ضرورت ہو، وہ مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
ذاتی اہداف کے حوالے سے شرجیل خان نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد ٹیم کی جیت میں کردار ادا کرنا ہے، وہ ٹورنامنٹ میں کم از کم تین سے چار میچز میں ایسی کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں جس سے ٹیم کو کامیابی حاصل ہو۔ شائقین کی عدم موجودگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراؤڈ کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے، پاکستان میں کراؤڈ ہمیشہ ٹیموں کے لیے توانائی کا ذریعہ ہوتا ہے، امید ہے آئندہ میچز میں شائقین کی واپسی ہوگی تاکہ ہم کرکٹ کو مزید انجوائے کر سکیں۔
شرجیل خان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کے لیے پلیٹ فارم ہے بلکہ سینئرز کے لیے بھی خود کو منوانے اور کم بیک کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے اور وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
















Add Comment