امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ قریبی طور پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان محصولات اور پابندیوں سمیت مختلف امور پر بات چیت جاری ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران میں مؤثر نظامِ حکومت کی تبدیلی سے متعلق معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ یورینئم افزودگی کو روکنے پر بھی اتفاق کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مل کر زیرِ زمین موجود نیوکلیئر مواد کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ تمام معاملات سیٹلائٹ نگرانی میں رہے ہیں اور مجوزہ 15 نکات میں سے کئی پر پیش رفت ہو چکی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کریں گے ان پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی، جن میں 50 فیصد تک ٹیرف شامل ہوگا، اور یہ ٹیرف امریکا کو فروخت کی جانے والی تمام اشیا پر لاگو ہوگا، جس میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
















Add Comment