مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع یہ قدیم تاریخی راستہ صدیوں تک قافلوں، حاجیوں اور مسافروں کی گزرگاہ رہا۔ اسلامی روایات کے مطابق نبی کریم ﷺ نے بھی مختلف مواقع پر اسی راستے سے سفر فرمایا، جن میں حجۃ الوداع، فتحِ مکہ اور بعض غزوات کے سفر شامل ہیں۔
اسے “انبیاء کا راستہ” اس لیے کہا جاتا ہے کہ متعدد روایات میں سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کے اس علاقے سے گزرنے کا ذکر ملتا ہے۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ وادیِ اَزرَق سے گزرے تو فرمایا: “گویا میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک گھاٹی سے اتر رہے ہیں اور بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔”
اسی طرح ثنیۃ ہرشی کے مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا:
“گویا میں حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک سرخ اونٹنی پر سوار ہیں اور تلبیہ کہہ رہے ہیں۔”
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“وادیِ روحاء سے ستر انبیاء گزرے جو حج کے لیے جا رہے تھے اور ان پر اون کے لباس تھے۔”
یہ راستہ صرف ایک سفری گزرگاہ نہیں بلکہ اسلامی تاریخ، سیرتِ نبوی ﷺ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی یادوں سے جڑا ایک عظیم تاریخی ورثہ ہے۔ آج بھی اس کے مختلف مقامات زائرین کو ان مبارک قافلوں کی یاد دلاتے ہیں جو اللہ کی عبادت اور اس کے گھر کی حاضری کے لیے یہاں سے گزرے تھے۔





















Add Comment