گزشتہ چند برسوں سے ہمارے ملک میں روشن خیالی کے نام پر بے حیائی و عریانی، اور ترقی کے نام پر فحاشی کا جو سیلاب امڈ آیا ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ہماری نئی نسل کے طور طریقے ہی بدل چکے ہیں۔ اکثر والدین سے یہ جملے سننے کو ملتے ہیں کہ ہماری اولاد نافرمان ہوگئی ہے، نئی نسل کو بڑوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں رہی، وہ بڑوں کا ادب نہیں کرتے اور اپنی من مانی کرتے ہیں۔
لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ اس نافرمانی کی وجہ کیا ہے؟
نوجوان نسل اس بے راہ روی کا شکار کیوں ہے؟ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے وہ ہم سے دور ہوتی جا رہی ہے؟
ہماری نئی نوجوان نسل کہیں موبائل فونز سے کھیلتی نظر آتی ہے اور کہیں انہی موبائل فونز کے ماڈلز پر گفتگو کرتی دکھائی دیتی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان شاہین بچوں کی نگاہیں، گفتگو اور دلچسپیاں ان خس و خاشاک تک محدود کیوں ہوگئی ہیں۔ نوجوان نسل نے اپنی تہذیب ہی بدل ڈالی ہے۔ ہر طرف لادینیت اور مادیت پرستی کا دور ہے۔ ہوا و طوفان کا رخ بدلنے والوں نے خود کو ہوا اور موجوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارا وجود دینِ اسلام کے فروغ کے بجائے اسے مٹانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ اگر کسی نوجوان کو اس کی اخلاقی اور روحانی بیماریوں پر روکا یا ٹوکا جائے تو الٹا جواب سننے کو ملتا ہے کہ “سب کر رہے ہیں، اگر ہم نے کرلیا تو کون سی قیامت آجائے گی؟” حالانکہ اسلام تو ہمیں جہنم کی آگ سے خود کو اور تمام بنی نوع انسان کو بچانے کا درس دیتا ہے، مگر ہم خود اپنی ذات کو جانتے بوجھتے جہنم کی آگ کی طرف دھکیل رہے ہیں، تو دوسروں کو کیا بچائیں گے۔
ہماری مسلمان خواتین کی وضع قطع دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس امت کی خواتین، جن کا زیور عفت و پاکیزگی، شرم و حیا ہوا کرتا تھا، جن کا فیشن سادگی اور وقار تھا، آج ترقی اور روشن خیالی کی دوڑ میں، اور بے ہودہ صبح و شام بدلنے والے فیشن کی آڑ میں، خود کو اللہ و رسول ﷺ کی بغاوت پر آمادہ کیے ہوئے جہنم کی آگ کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی خواتین کی مثبت تربیت کی جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ مسلمان خواتین کو آزاد تہذیب میں ڈھالنے کا سہرا الیکٹرانک میڈیا کو جاتا ہے، جس نے خواتین کو شرم و حیا سے بے گانہ کردیا ہے۔
مگر ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ہم الحمدللہ مسلمان ہیں، اور پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے، اس لیے عقائد و نظریات کے معاملے میں کسی بھی قسم کی مفاہمت ہمیں رسوائی کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔ اس لیے انتظار کے بجائے ابھی اسی وقت انقلاب برپا کرنا ہوگا، اور اس کی ابتدا اپنی ذات سے کرتے ہوئے اسے پوری دنیا میں عام کرنا ہی ہماری منزل ہے۔
ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر سو فیصد اسلام سے جڑنا ہوگا، اور اپنی اور اپنے اہل و عیال کی حکمت و دانائی کے ساتھ اصلاحی تربیت کا انتظام کرنا ہوگا، کیونکہ امتِ مسلمہ کو اس وقت اس کی اشد ضرورت ہے۔ نوجوان نسل ہمارا قومی سرمایہ ہے، اور ہمیں ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
















Add Comment