نازیہ کو طویل عرصے بعد پاکستان آنے کا موقع ملا۔ پندرہ سولہ برس پہلے وہ اپنے دیور کی شادی میں شرکت کے لیے کراچی آئی تھی۔ پھر وقت نے کروٹ لی، ساس، سسر اور دیور کی فیملی سب امریکہ منتقل ہو گئے اور یوں آہستہ آہستہ اس کے تمام قریبی رشتے دار پردیس میں جا بسے۔
مگر دل کے کسی گوشے میں کراچی اب بھی بسا ہوا تھا.وہی کراچی جو اس کے بچپن کی حسین یادوں کا امین تھا۔ انہی یادوں کی خوشبو اس کے دل میں ایک کسک بن کر جاگتی رہتی، اور اس نے یہی احساس اپنے جوان بچوں کے دلوں میں بھی منتقل کر دیا تھا۔ چنانچہ دسمبر کی تعطیلات میں کراچی جانے کا پروگرام طے پا گیا۔رہائش کا انتظام گلشنِ اقبال میں کیا گیا—وہی علاقہ جو کبھی نازیہ کی جوانی کے چند حسین برسوں کا گواہ رہا تھا۔
جس دن وہ کراچی پہنچے، فضا پر ابر کی اداسی چھائی ہوئی تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی نے موسم کو خوشگوار بنا رکھا تھا۔ ائیرپورٹ سے نکلتے ہی بادلوں کی گھٹائیں دیکھ کر سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی، مگر یہ مسرت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ جیسے ہی گاڑی آگے بڑھی، شہر کا چہرہ بدلتا چلا گیا—جگہ جگہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ابلتے ہوئے بدبودار گٹر، اور سڑکوں پر بکھرے سائن بورڈز۔ گاڑی ہچکولے کھاتی، رینگتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی، اور ہر جھٹکے کے ساتھ نازیہ کے دل میں بھی ایک چبھن سی محسوس ہو رہی تھی۔ امریکہ کے طویل سفر نے اسے اتنا نہیں تھکایا تھا جتنا اس مختصر مگر کٹھن سفر نے نڈھال کر دیا۔ آدھے گھنٹے کی مسافت طے کرنے میں ایک گھنٹے سے زائد وقت لگ گیا۔
گلشنِ اقبال، جو کبھی صفائی اور خوبصورتی کی مثال سمجھا جاتا تھا، اب اپنی خستہ حالی پر نوحہ کناں دکھائی دے رہا تھا۔ نازیہ کی آنکھوں میں حیرت اور دل میں ایک انجانی سی اداسی اتر آئی۔
“امی، کیا یہی وہ گلشنِ اقبال ہے جسے آپ یاد کر کے مسکرا دیتی تھیں؟” بیٹی نے معصومیت سے سوال کیا۔
نازیہ نے ایک گہری سانس لی، “میں خود حیران ہوں بیٹا… لگتا ہے کراچی جیسے وقت کی الٹی سمت میں سفر کر گیا ہے۔”
تین کمروں پر مشتمل خوبصورت اپارٹمنٹ دیکھ کر وقتی طور پر سب کے چہرے کھل اٹھے، مگر یہ خوشی بھی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ نہ گیس، نہ بجلی، نہ پانی—زندگی کی بنیادی سہولتیں جیسے خواب بن چکی تھیں۔ چند ہی گھنٹوں میں حقیقت نے ان کے تمام خواب چکنا چور کر دیے۔
اگلے روز حامد اپنے بیٹے کے ساتھ گاڑی میں پٹرول بھروا کر سڑک کنارے رکا ہی تھا کہ ایک موٹر سائیکل ان کے سامنے آ کر رک گئی۔ گن پوائنٹ پر انہیں روک کر لمحوں میں موبائل اور والیٹ چھین لیے گئے، اور وہ دونوں باپ بیٹے ساکت کھڑے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔ یہ شہر، جو کبھی زندگی سے لبریز تھا، اب خوف کی دبیز چادر اوڑھے کھڑا تھا۔
نازیہ کی فیملی کراچی کی سیر و تفریح کے ارادے سے آئی تھی۔ اگرچہ یہاں اب بھی چند خوبصورت مقامات موجود تھے، مگر امن و امان کی ابتر صورتحال نے ان کی خوشیوں کو محدود کر دیا۔ وہ ڈرتے ڈرتے دن کے اجالے میں چند جگہوں کی سیر کر کے ہی مطمئن ہو گئے۔
چند پرانے دوستوں اور احباب سے ملاقات نے دل کو وقتی سکون ضرور دیا، مگر ہر چہرے پر ایک ہی سوال نقش تھا—یہ شہر، جو کبھی روشنیوں کا استعارہ تھا، آج اندھیروں میں کیوں ڈوبا ہوا ہے؟ وہ کراچی، جسے لوگ کبھی دبئی کا ہم پلہ سمجھ کر روزگار کی تلاش میں آتے تھے، آج خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
شہر نا پرساں کی بد قسمتی ، کیا یہ صرف حکمرانوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے؟
یا ہم سب اس زوال میں برابر کے شریک ہیں؟
حقیقت شاید دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ ہم نے ایسے لوگوں کو اپنے سروں پر مسلط کیا جو عوام کے دکھ درد سے بے نیاز ہیں، اور جنہیں اس شہر کی بربادی کا کوئی احساس نہیں۔
یوں روشنیوں کا یہ شہر، جو کبھی امیدوں کا مرکز تھا، آج مایوسی کی تصویر بنتا جا رہا ہے۔۔۔۔اور ہم، اس کے باسی، صرف افسوس کے سائے میں کھڑے تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
















Add Comment