اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کی جانب سے مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مجموعی حجم تقریباً 18 ہزار ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب یہ اہم ترین مالیاتی دستاویزات ایوان میں پیش کریں گے، جس میں ایک طرف عوام کے لیے ریلیف کی تجاویز ہیں تو دوسری طرف بھاری ٹیکس اہداف کا چیلنج بھی موجود ہے۔
سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری
بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کی تنخواہوں میں 10 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس سلیبز کو 6 سے بڑھا کر 8 کیا جا رہا ہے، جس سے سالانہ 12 لاکھ سے 36 لاکھ روپے تک کمانے والوں کے ٹیکس میں کمی کا امکان ہے۔ مزید برآں، سالانہ ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد آمدن پر عائد 10 فیصد سرچارج کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
کیا سستا ہوگا اور کیا مہنگا؟
عوام کے روزمرہ استعمال اور بناؤ سنگھار کی بعض اشیاء سستی ہونے کی توقع ہے، کیونکہ درآمدی میک اپ، سرخی، پاؤڈر، مسکارا، شیمپو اور صابن پر کسٹم ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، ماحول دوست گاڑیوں کے شوقین افراد کو جھٹکا لگ سکتا ہے۔ الیکٹریکل، ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہونے کا خدشہ ہے، اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 8.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
ٹیکس اہداف اور قرضوں کا بوجھ
حکومت نے نئے مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے، جس کو پورا کرنے کے لیے 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے جا سکتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ لیوی ڈھائی روپے سے بڑھا کر پانچ روپے لیٹر کرنے کی تجویز ہے۔ بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ یعنی 7 ہزار 824 ارب روپے صرف سود اور قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہو جائے گا۔
مستحقین کے لیے ریلیف
غریب طبقے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھا کر 838 ارب روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت مستحقین کا سہ ماہی وظیفہ 13,000 روپے سے بڑھا کر 14,500 روپے کیا جا سکتا ہے۔
یہ تمام مالیاتی اقدامات “فنانس بل 2026” کی شکل میں پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد یکم جولائی 2026 سے ملک بھر میں نافذ العمل ہوں گے۔
پاکستان کا بجٹ 2026-27 پیش: 18 ہزار ارب حجم کا مجموعی بجٹ، تنخواہوں میں 10 فیصد تک اضافہ متوقع، جب کہ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہونے کا خدشہ
















Add Comment