Home » blog page » بین الاقوامی خبریں » اقوامِ متحدہ کی رپورٹ: دنیا کا ہر 70 واں فرد جبری بے دخلی کا شکار
بین الاقوامی خبریں

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ: دنیا کا ہر 70 واں فرد جبری بے دخلی کا شکار

نیویارک / ویب ڈیسک : اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 117.8 ملین افراد جنگ، بدامنی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ظلم و ستم کے باعث جبری بے دخلی کا شکار ہو کر پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کا ہر 70 واں فرد اپنے گھر کی چھت سے محروم ہو چکا ہے۔

گزشتہ دہائی میں پہلی مثبت پیش رفت
رپورٹ میں ایک اہم پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران پہلی بار جبری بے دخلی کی مجموعی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے۔ سال 2025ء کے دوران بے گھر افراد کی تعداد میں تقریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ مہاجرین اور اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے افراد کی بڑی تعداد میں اپنے آبائی علاقوں کو واپسی ہے۔

لبنان اور مشرقِ وسطیٰ کا بحران
تاہم، رپورٹ کے مطابق لبنان اور مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتے ہوئے بحران نے اس مثبت پیش رفت کو شدید متاثر کیا ہے۔ مارچ 2026ء میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد، اسرائیلی جارحیت اور حملوں کے نتیجے میں لبنان میں 1 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ایران کے اندر بھی اس وقت 3.2 ملین افراد اندرونِ ملک بے گھر ہونے پر مجبور ہیں۔

بے گھر افراد کی زمرہ بندی
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر بے گھر ہونے والے افراد میں سے:

68.6 ملین افراد اپنے ہی ممالک کے اندر بے گھر (IDPs) ہیں۔

28.5 ملین افراد اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت مہاجرین ہیں۔

9 ملین افراد مختلف ممالک میں پناہ کے متلاشی ہیں۔

7.2 ملین افراد بین الاقوامی تحفظ کے محتاج ہیں۔

6 ملین فلسطینی مہاجرین شامل ہیں جو دہائیوں سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

متاثرہ ممالک اور میزبان ریاستیں
اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے 72 فیصد مہاجرین کا تعلق صرف 7 ممالک سے ہے، جن میں وینزویلا، فلسطین، یوکرین، شام، افغانستان، سوڈان اور جنوبی سوڈان شامل ہیں۔ دوسری جانب، ان مہاجرین کو پناہ دینے والے بڑے ممالک میں کولمبیا، جرمنی، ترکیہ، یوگنڈا، ایران، چاڈ اور پاکستان سرِ فہرست ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 65 فیصد مہاجرین اپنے آبائی ممالک کی سرحدوں سے متصل ہمسایہ ممالک میں ہی مقیم ہیں۔