Strait of Hormuz میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی تیل سپلائی متاثر ہونے کے بعد دنیا بھر کے کئی ممالک نے ایندھن بچانے اور معاشی دباؤ کم کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا، جس کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق کم از کم 70 ممالک نے فوری پالیسی فیصلے کیے، جبکہ 85 سے زائد ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو گئیں۔ اس صورتحال کے بعد کئی حکومتوں نے ورک فرام ہوم، ایندھن راشننگ، ٹیکس ریلیف اور بجلی بچانے کی مہمات شروع کر دیں۔
Bangladesh نے ایندھن راشننگ نافذ کرتے ہوئے تعلیمی ادارے بند اور مارکیٹیں جلد بند کرنے کے احکامات جاری کیے، جبکہ Sri Lanka میں کیو آر کوڈ کے ذریعے فیول راشننگ سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔
اسی طرح China نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حد مقرر کی، جبکہ Japan نے اپنے تیل ذخائر جاری کرنے کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ توانائی تعاون بڑھانے کیلئے ٹاسک فورس قائم کی ہے۔
یورپی ممالک میں بھی ایندھن ٹیکس میں کمی، سبسڈیز اور قیمت کنٹرول جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کئی ممالک نے عوام سے غیر ضروری سفر کم کرنے اور توانائی بچانے کی اپیل کی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بحران صرف وقتی نہیں بلکہ دنیا کو نئی توانائی پالیسیوں اور کفایت شعاری کی طرف لے جانے کا اشارہ بن رہا ہے۔
















Add Comment