سرگودھا کی معصوم بچی منتہا کے سانحے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ قصور کی زینب کے بعد کمسن بچوں اور بچیوں کے قتل و زیادتی کی ایک طویل فہرست ہے جو آج بھی حکومتی سطح پر کسی کے لئے پریشان کن ثابت نہ ہو سکی یہ المیہ ہے۔
پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل مسلسل اقتدار کے جھولے جھولنے والی شخصیات کے لئے یہ سانحات فکرمندی کے دائرے سے باہر ہیں کیونکہ ترجیحات میں عوام کا تحفظ شامل ہی نہیں ۔ مغرب کے کاسہ لیس مغربی معاشروں سے خاص و عام کے تحفظ پر ہی کچھ شرم ادھار لے لیتے تو احساس ہوتا کہ ایسے واقعات کے بعد صرف افسوس اور مذمت کافی نہیں، بلکہ بچوں کے تحفظ اور مجرموں کے فوری احتساب کے لیے سنجیدہ اقدامات اشد ضروری ہیں۔
زینب الرٹ بل کے معاملے میں جماعتِ اسلامی کی جانب سے پیش کردہ سخت سزا کی تجاویز پر اُس وقت پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر سیاسی حلقوں کے مؤقف کھل کر سامنے آئے تھے کہ انہیں قاتلوں ، مجرموں کی سزائے موت پر انسانیت کا درد جاگ اٹھا تھا۔ آج تک یہ سوال عام پاکستانی کے لئے پریشان کن ہے کہ ہمارے بچوں کی دردناک اموات پر ریاست کی ترجیح کیا ہے؟
مجرموں کا مؤثر احتساب یا صرف رسمی بیانات؟
بلاشبہ معصوم بچیوں کی حفاظت والدین سمیت پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مگر قانون و انصاف بھی ایسا ہونا چاہیے جو مظلوم خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھے اور مجرموں کے لیے ایسی کڑی سزائیں عمل میں لائی جائیں جو جرم سے قبل ہی مجرمانہ ذہنیت کی سرکوبی کیلئے کافی ہو جائیں۔





















Add Comment