Home » blog page » اسلام » عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں – صبا احمد
اسلام

عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں – صبا احمد

عقیدہ کے معنی “پختہ گرہ، باندھنا اور مضبوط عہد و پیمان کرنا” ہے۔ ایک نظریہ جو انسان کے دل میں گھر کر جائے، جو اس کے ذہن و باطن میں اچھی طرح سما جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امتِ مسلمہ کا تعلق تمام دوسرے انسانی تعلقات سے ایک بالاتر نوعیت رکھتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے لیے ان کے والدین سے بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں۔ ان کے بیوی، بچے اور والدین ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ان کے ساتھ خود غرضی برت سکتے ہیں، ان کو گمراہ کر سکتے ہیں، ان سے غلطیوں کا ارتکاب کروا سکتے ہیں، ان کو جہنم میں دھکیل سکتے ہیں۔ مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ ہستی ہیں جن کے ہر حکم اور نصیحت میں اس کے لیے حقیقی فلاح ہے۔انسان خود حماقت کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار کر خود کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے وہی کچھ پسند کر گئے جو فی الواقع ان کے حق میں نافع ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلمانوں پر حق ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو اپنے والدین، اولاد اور اپنی جان سے بڑھ کر عزیز رکھیں، دنیا کی ہر چیز سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھیں، اپنی رائے پر آپ کی رائے و فیصلے کو مقدم رکھیں اور سرِ تسلیم خم کر دیں۔

بخاری و مسلم میں روایت ہے:
“تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کو اس کے باپ، اولاد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔”

(سورۂ الاحزاب، آیت 33) میں ہے:
“بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اہلِ ایمان کے لیے ان کی ذات پر مقدم ہے۔”

موجودہ دور میں اسلام کے خلاف جو فتنے رونما ہوئے، ان میں ایک بڑا فتنہ ختمِ نبوت کا فتنہ ہے اور نبوت کے جھوٹے دعوے کا ہے۔ یہ فتنہ ساٹھ سال سے امت میں گمراہی پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ اپنے دین سے دوری اور جہل ہے۔حضرت زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ بولے بیٹے تھے، جن کا نکاح حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے ہوا اور پھر طلاق ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا تو پورے عرب نے طعن و تشنیع اور بہتان و افترا کے طوفان اٹھا دیے۔

(سورۃ الاحزاب، آیت 40:33 نازل ہوئی):
“(لوگو!) محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔”

انبیاء کا کام لوگوں سے ڈرنا نہیں بلکہ اللہ سے ڈرنا ہے، اور ہمیشہ سے ان کے معاملہ میں اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ کسی کی پرواہ کیے بغیر اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ اس آیت نے جہالت کی تمام رسومات کی جڑ کاٹ دی۔ان آیات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین کہا گیا، یعنی ان کے بعد اب کوئی رسول تو درکنار، نبی بھی نہیں آئے گا۔ دورِ جاہلیت کی ہر رسم کا خاتمہ کرکے ہمیشہ کے لیے نبوت کا دروازہ بند کر دیا گیا۔مزید زور دے کر فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ایک گروہ جس نے دعویٰ نبوت کا فتنۂ عظیم کھڑا کیا، لفظ خاتم النبیین کے معنی کرتا ہے “نبیوں پر مہر”، مگر اس کا بھی غلط مطلب لیا گیا، یعنی جو انبیاء بھی آئیں گے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہر لگنے سے نبی بنیں گے۔اس لفظ کا یہ مفہوم لینے کی قطعاً کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔لغت کی رو سے خاتم النبیین کے معنی “سلسلۂ نبوت کو ختم کر دینے والے” کے ہیں۔ مطلب اب یہ سمجھا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
“بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی انتقال فرما جاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا بلکہ خلفا ہوں گے۔” (بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین)

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
“میری اور مجھ سے پہلے جتنے نبی گزرے ہیں، ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے، خوبی کا اظہار کرتے، حیران ہوتے، کہتے، اس جگہ کی اینٹ کیوں نہ رکھی؟ اور وہ اینٹ میں ہوں۔ میں خاتم النبیین ہوں۔”
(وہ نبوت کی عمارت میرے آنے پر مکمل ہو چکی، وہ اینٹ میں ہوں، اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جسے پُر کرنے کوئی نبی آئے گا۔)

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
“مجھے چھ باتوں پر انبیاء پر فضیلت ہے:
1۔ مجھے جامع اور مختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی۔
2۔ مجھے رعب کے ذریعے سے نصرت دی گئی۔
3۔ میرے لیے اموالِ غنیمت حلال کیے گئے۔
4۔ میرے لیے زمین کو مسجد بنا دیا گیا، اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ میری شریعت میں نماز مخصوص عبادت گاہوں میں نہیں، بلکہ روئے زمین پر ہر جگہ پڑھی جا سکتی ہے۔ پانی نہ ملے تو مٹی سے تیمم کرکے وضو کی حاجت بھی پوری کی جا سکتی ہے اور غسل کی حاجت بھی۔
5۔ مجھے تمام دنیا کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا۔
6۔ میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔”
(مسلم، ترمذی، ابن ماجہ)

اس کے بعد کوئی گنجائش نہیں، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں ختمِ نبوت کا کھلے کھلم اعلان کیا اور آپ کی وفات کے بعد بھی فتنے اٹھے اور صحابہ کرام نے بالاتفاق جنگ کی۔ اور سب سے بڑا فتنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسیلمہ کذاب کا معاملہ تھا، جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا منکر تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت میں شریکِ نبوت ہے۔ اس کے اقرارِ رسالتِ محمدی کے باوجود اسے کافر اور خارج از ملت قرار دیا گیا، اور اس کے ساتھ اس کے پیروکار اور اس سے جنگ ہوئی۔ صحابہ کرام نے اسے تسلیم نہ کیا اور ان پر فوج کشی کی۔ ان کے خلاف ارتداد کی بنا پر نہیں بلکہ بغاوت کی وجہ سے جنگ کی۔ آج بھی مسلمان کسی ایسے دعوے کو جھوٹ گردانتے ہیں اور اسے کفر قرار دیتے ہیں۔ ختمِ نبوت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔