Home » blog page » اسلام » اسوۂ رسول ﷺ اور فلاحی ریاست – بنت اسماعیل
اسلام

اسوۂ رسول ﷺ اور فلاحی ریاست – بنت اسماعیل

سیرتِ النبی ﷺ پر لکھنے کا سوچا تو یوں محسوس ہوا جیسے لفظ بے بس ہو گئے، آنکھیں اشکوں کا سمندر بن گئیں، دل تڑپ کر وجود سے نکل جانے کو بے قرار ہو گیا۔ کانپتے ہاتھوں سے قلم تھاما اور دل نے عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ﷺ! اگر یہ گنہگار آپ ﷺ کی سیرت کے چند لفظ بھی نہ لکھ سکی تو پھر اس قلم کا کیا فائدہ ہے جو ربِ کائنات نے میرے ہاتھ میں تھمایا ہے؟‘‘

انہی شکستہ لفظوں سے عرض ہے کہ اللہ عزوجل نے جب اپنی مخلوق پر عظیم ترین احسان کرنے کا ارادہ فرمایا تو سرورِ کائنات، رحمتُ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ان کے ذریعے اپنی ذات کی معرفت مخلوق کو عطا فرمائی۔ صحرائے عرب سے ہدایت کا ماہتاب طلوع ہوا۔ جس کی کرنوں نے کائنات کو اپنے نور سے منور کر دیا۔ جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کو وہ سیدھا اور سچا راستہ دکھایا جس پر چل کر انسان اپنے رب سے جا ملتا ہے۔بے شک، آپ ﷺ کی حیاتِ پاک ہماری پوری زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ ﷺ قرآنِ پاک کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں، لیکن آج میں آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کے ایک ایسے پہلو کا ذکر کرنا چاہوں گی، جو ہماری اجتماعی زندگی کے لیے نہایت اہم ہے اور وہ ہے اسلامی ریاست کے حکمران کی حیثیت سے آپ ﷺ کا کردار۔

مدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی گئی تو آپ ﷺ نہ صرف ایک روحانی پیشوا تھے، بلکہ ایک حکمران بھی تھے۔ ایک قانون ساز اور ایک کمانڈر بھی تھے۔ آپ ﷺ کو مدینہ منورہ میں حکومت کا نظام قائم کرنے کے لئے بے شمار دشواریوں اور آزمائشوں کا سامنا تھا۔ مدینہ ایک چھوٹی سی ریاست تھی، مگر علمی اور تاریخی اعتبار سے اسے ایک امتیازی حیثیت حاصل ہو گئی۔ سب سے پہلے عوام اور حکمران کے حقوق و فرائض طے کئے گئے اور انہیں تحریری شکل دی گئی، جو باقاعدہ دستور کی حیثیت رکھتی تھی۔ غیر مسلموں کو اپنے اپنے دین پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے کا حق دیا گیا۔ عوام کے لیے امن، سکون اور اطمینان کی فضا قائم کی گئی۔ فوج، عدلیہ، بیت المال، تعلیم اور انتظامیہ جیسے اہم ادارے قائم کئے گئے۔ یہودیوں کو بھی مسلمانوں کے ساتھ سیاسی اور تمدنی حقوق میں مساوی حیثیت دی گئی۔مدینہ کی ریاست عدل، رواداری اور باہمی حقوق کی مثال بن گئی۔ قرآن ایک، حکمران ایک اور قانون بھی ایک ہی تھا۔ ہر طرف عدل و انصاف کا بول بالا تھا۔ پوری مملکت کے نظامِ فکر اور اجتماعی زندگی کی روح کو ایک ہی پیغام میں سمیٹ دیا گیا۔

کتنی خوبصورت اور بے مثال قیادت تھی آپ ﷺ کی! تمام تر رکاوٹوں، مشکلات اور خطرات کے باوجود ایک ایسی ریاست وجود میں آئی جس میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ذات تھی، اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور نگرانی میں اپنے فرائضِ منصبی انجام دیتے رہے۔ یہ وہ عظیم ریاست تھی جو دنیا کے طاغوتوں کے سامنے بھی حق و صداقت کا پرچم لیے سینہ تان کے کھڑی تھی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم، جو نبیِ کریم ﷺ کی اُمّت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، آج بحیثیت اُمّت، بحیثیت قوم اور بحیثیت ایک اسلامی ملک کے باشندے کے اتنے بدحال کیوں ہو گئے ہیں؟
کیا ہم اس راستے سے بھٹک گئے ہیں جو ہمارے ہادیِ برحق ﷺ نے ہمیں دکھایا تھا؟
یا ہم نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی ذاتِ اقدس کو محض ربیع الاول کی محفلوں، جلسوں، رسموں اور تقریبات تک محدود کر دیا ہے؟

جن کے نورِ ہدایت سے ہماری ہرسمت منور ہونی چاہئے تھی، اُن کی تعلیمات، اُن کی ذاتِ پاک اور اُن کا کردار ہماری زندگیوں میں کہاں ہے؟ افسوس! ہم نے اُن کے ذکر کو تو زندہ رکھا، مگر اُن کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں سے دور کر دیا۔ اگر ہم اُن کی شریعت کو دل سے تھام لیتے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے، تو آج ہم دنیا کے سامنے سربلند ہوتے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم صرف یہ جملہ کہہ کر اپنے دل کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ ہم تو اپنے نبی ﷺ کے امتی ہیں، آخر ہماری بخشش تو ہو ہی جائے گی؟

کیا وہ وقت نہیں آ گیا کہ ہم اپنے بے مثال راہبر و حکمران، نبیِ رحمت حضرت محمد ﷺ کی سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک فلاحی ریاست کی تشکیل کے لئے قدم بڑھائیں؛ ایسی ریاست جہاں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا انسان امن، عزت، انصاف اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے؟