بیماری بڑی ہو یا چھوٹی، مریض اس وقت تک صحت یاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود دوا نہ لے۔ فطرت کا قانون بھی یہی ہے کہ ہر جاندار اپنی حفاظت اور اپنی غذا کی تلاش خود کرتا ہے۔ کیا کوئی باشعور انسان اپنے گرتے ہوئے گھر کی تعمیر یا اپنے گھر کے کسی بنیادی مسئلے کے حل کے لیے پڑوسیوں کے انتظار میں بیٹھا رہے گا؟ یقیناً اس کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہوگا۔
جب ہم اپنے انفرادی مسائل خود حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اجتماعی زندگی بھی تو انہی افراد کے مجموعے سے تشکیل پاتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے کسی باہر سے آنے والی طاقت یا کسی معجزے کے منتظر رہتے ہیں؟
آج پاکستانی قوم گوناگوں مسائل کا شکار ہے۔ ان میں سرفہرست حد سے بڑھی ہوئی مہنگائی، کرپشن، ناخواندگی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی ہے۔ یہ ایسے مسائل ہیں جو ہمیں انفرادی اور اجتماعی، دونوں سطحوں پر متاثر کر رہے ہیں۔ لیکن جب تک ہم خود اپنے مسائل کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے، ان کے حل کی سنجیدہ کوشش شاید ہی ممکن ہو۔عوام کی اپنے مسائل پر خاموشی اہلِ اقتدار کو بھی ان مسائل کے حل کے لیے سستی اور غفلت کی طرف لے جاتی ہے۔ ہماری یہی خاموشی ملک کو برسوں سے نقصان پہنچا رہی ہے۔ عوام کے ووٹ کی طاقت کو کمزور کرنے سے لے کر اشرافیہ کو نوازنے کے لیے عام آدمی پر نت نئے اور بھاری ٹیکس عائد کرنے تک، بہت کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟
دنیا کے بہت سے ترقی پذیر ممالک بھی ایسے ہی مسائل سے دوچار رہے ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز اٹھاتی ہے اور پُرامن احتجاج کا راستہ اختیار کرتی ہے تو حکمرانوں کو اپنے فیصلوں پر نظرِثانی کرنا ہی پڑتی ہے۔اگر آج پاکستانی عوام بھی اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز اٹھائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ حالات میں بہتری کی راہ ہموار نہ ہو سکے۔ خاموشی مسائل کا حل نہیں؛ منظم، پُرامن اور بااصول عوامی آواز ہی تبدیلی کا پہلا قدم ہے۔آج پاکستانی عوام کے پاس ایک اہم موقع ہے کہ جماعتِ اسلامی کی جانب سے شروع کی گئی عوامی حقوق کی تحریک میں شامل ہو کر اپنی آواز کو توانا کریں، تاکہ یہ آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچے اور حکمران عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور ہوں۔ جماعتِ اسلامی کا یہ دھرنا اور اب تین ستمبر کی ہڑتال محض کسی جماعت کا سیاسی دھرنا نہیں، بلکہ ان مسائل کے خلاف احتجاج ہے جو ہمارے گھروں، ہماری جیبوں اور ہماری روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ مڈل کلاس طبقہ ہو یا طالب علم، گھریلو خاتون ہو یا دیہاڑی دار مزدور، استاد ہو یا صحافی ۔۔۔مہنگائی اور مہنگے پٹرول کا بوجھ ہر حلال کمانے والے طبقے نے محسوس کیا ہے۔
تو آئیے!
اپنے مسائل پر خاموش رہنے کے بجائے اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ جماعتِ اسلامی کی اس عوامی آواز سے آواز ملائیں اور اس پُرامن جدوجہد اور تین تاریخ کی ہڑتال کو کامیاب بنائیں۔ آئیے ثابت کریں کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں؛ ایسی قوم جو ظلم، ناانصافی اور معاشی استحصال کے خلاف پُرامن اور متحد آواز بلند کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ تین ستمبر کی ہڑتال میں جماعت اسلامی کا ساتھ دے کر اس کو کامیاب اور یادگار بنائیں تا کہ ہمارا ملک صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بن سکے ۔امین ثمہ آمین ۔





















Add Comment