کون ہے جو لفظوں میں اُس مقدس ہستیِ کا مقام و مرتبہ بیان کر سکے؟ کون ہے جو اُن کے حسنِ سیرت، حسنِ کردار اور عظمت و شان کا احاطہ کر سکے؟ وہ ہستی جن کے آمد سے دنیا کو ہدایت کی روشنی ملی، جن کے آنے سے انسانیت کو جینے کا سلیقہ ملا اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا.
12 ربیع الاول کی نسبت حضورِ اقدس حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت سے ہے۔ اسی اعتبار سے ماہِ ربیع الاول کو رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھ ایک خاص نسبت اور عظیم شرف حاصل ہے۔ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں خاتم النبیین، رحمتُ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ دنیا میں جلوہ افروز ہوئے۔ یہی نسبت اس مہینے کو خصوصی عظمت و احترام عطا کرتی ہے۔اس بابرکت مہینے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم محض الفاظ اور جذبات تک محدود نہ رہیں، بلکہ محبتِ رسول ﷺ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنے کردار کو سنتِ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھالیں، گناہوں سے بچیں، عبادات کا اہتمام کریں، اخلاقِ حسنہ اپنائیں، حقوق العباد کا خیال رکھیں اور ہر اُس عمل سے اجتناب کریں جو دینِ اسلام میں ثابت نہیں۔
افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ تعلیماتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کے بجائے ایسی رسومات اور بدعات میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے جن کا اسلام کی اصل تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے محبتِ رسول ﷺ کے حقیقی تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر اپنی خواہشات کو دین کا نام دینا شروع کر دیا ہے۔ دنیاوی لذتوں اور نفسانی خواہشات کو دین کے احکام سمجھ لینا ہمیں اُس راستے سے دور کر دیتا ہے جس کی طرف نبی کریم ﷺ نے ہماری رہنمائی فرمائی۔
محبتِ رسول ﷺ کا سب سے خوبصورت ثبوت یہی ہے کہ ہم آپ ﷺ کی اطاعت کریں، آپ ﷺ کی سنت کو اپنائیں، آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں جگہ دیں اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانے کے ساتھ خود بھی ان پر عمل کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ماہِ ربیع الاول کی برکتوں سے حقیقی فائدہ اٹھانے، عشقِ رسول ﷺ کو اپنے دلوں میں زندہ رکھنے، سنتِ نبوی ﷺ پر چلنے، گناہوں اور بدعات سے محفوظ رہنے اور اپنی زندگیوں کو اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔اور ہم پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پوری دنیا تک ویسے ہی پہنچائیں جیسے ایک امتی کا فرض ہے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ ،ایک نبی اور ایک قرآن کے سائے تلے سنت نبوی عام کرتے چلے جائیں ۔۔۔۔یہاں تک کہ معاشرے کی تمام بے چینی ،بے راہ روی ،ظلم اور جبر کا خاتمہ ہو جائے۔امین ثمہ آمین ۔
آمین یا رب العالمین۔





















Add Comment