6 ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخِ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا ایک قابلِ فخر دن ہے، جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی قوت اور دفاعی وسائل میں برتری کے باوجود اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی باقاعدہ اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔
دشمن کی نظریں ہماری سرحدوں کے محافظ نوجوانوں پر لگی ہوئی تھیں۔ موقع کی تلاش میں سرگرداں دشمن ہماری سالمیت کو نیست و نابود کرنا چاہتا تھا، مگر اس چھوٹے سے، غیور اور متحد ملک نے دشمن کے جنگی حملوں کا پامردی، بہادری اور جان نثاری سے مقابلہ کیا، یہاں تک کہ دشمن کے تمام عزائم خاک میں مل گئے۔لیکن دشمن یہ بھول گیا تھا کہ سرحدوں کے محافظ فوجی جوان کبھی سو نہیں جاتے۔ وہ عوام کو میٹھی نیند سلانے کے لیے اپنی نیندوں کی قربانی دیتے ہیں۔ فضا میں لہراتا سبز ہلالی پرچم ان شہیدوں کی داستان سنا رہا ہے جنہوں نے اس مٹی کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں۔ مسجد کا بلند مینار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا ایمان ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔جب فضائی حدود کی نگہبانی کرتے ہوئے جیٹ طیارے بادلوں کو چیرتے ہوئے گزرتے ہیں تو دل عزم و حوصلے سے بھر جاتا ہے۔ فوجی جوانوں کو یہ عقیدت بھرا سلام دراصل ان شہدائے وطن کے نام ہے جن کا خون ہماری آزادی کا ضامن ہے۔ ملکی ادارے اپنی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے اللہ کے بعد ان بہادر سپوتوں کے محتاج ہیں۔
الحمدللہ! پاک فوج کے جوانوں نے بروقت دشمن کے حملے کا بھرپور مقابلہ کیا، جس کی بدولت ہم آج 6 ستمبر 2026ء کو یومِ دفاعِ پاکستان کے اس ناقابلِ فراموش لمحے کو یاد کرنے اور منانے کے قابل ہیں۔ملکی سالمیت کے لیے جہاں پاک فوج کا کردار تسلی بخش اور قابلِ تحسین رہا، وہیں عوام بھی سر پر کفن باندھ کر اپنے فوجی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آئی۔ اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ جنگ صرف فوج نہیں لڑتی، بلکہ عوام اور فوج متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ میرے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اسے امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے اور ہمارے شہدائے وطن کے درجات بلند فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔





















Add Comment