صبا نے فہیم کے لیے ٹھنڈے پانی کی بوتل اور ایک عدد چھتری بھی نکال لی۔ فہیم تیار ہو کر آئے، صبا نے چھتری اور بوتل ہاتھ میں پکڑا دی۔ فہیم نے مسکرا کر صبا کی جانب دیکھا، اللہ حافظ کہا اور باہر نکل گئے۔
صبا بھی دھیمے قدموں سے دروازے تک آئی۔ باہر فہیم ٹھیلے پر اسٹیشنری کا سامان رکھ رہے تھے۔ صبا دکھی دل کے ساتھ دروازے کو بند کر کے کمرے میں آگئی۔ بیڈ پر بیٹھتے ہی کافی دیر کے رکے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر بہنے لگے۔
آج صبا بے حد دل گرفتہ تھی۔ صبا اور فہیم ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ فہیم کا سیلز کا کاروبار تھا۔ گھر میں خوشحالی تھی، مگر بڑھتی ہوئی مہنگائی سے اور لوگوں کی طرح فہیم اور صبا بھی بے حد متاثر ہو رہے تھے۔ رہی سہی کسر پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پوری کر دی۔
بائیک پر سیل کرنے والا فہیم، گھر چلانے کی خاطر بائیک بیچ کر ٹھیلے پر آگیا کہ کسی نہ کسی طرح گھر کے خرچے چلتے رہیں۔
نہ جانے کیوں صبا کا ذہن یہ قبول نہیں کر پا رہا تھا کہ اس کی زندگی کا ساتھی، جو کہ ایک تعلیم یافتہ شخص ہے، ریڑھی چلائے۔
صبا ٹراما کی کیفیت میں تھی۔ اسی دوران بھابھی کا فون آ گیا۔ صبا نے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے بھابھی کے سامنے دل کھول کر رکھ دیا۔
بھابھی نے صبا کو بہت اچھے انداز سے حلال روزی کے بارے میں بتایا اور سمجھایا کہ مزدور اللہ کا دوست ہے۔ پاکستان میں مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ہونے والے دھرنے میں شرکت کی دعوت دی۔
بھابھی کی دل جوئی سے صبا قدرے پُرسکون ہو گئی تھی اور منتظر تھی فہیم کی۔۔۔ تاکہ فہیم کے ساتھ دھرنے میں شرکت کر سکے۔





















Add Comment