سیاست کو دین کی شکل میں پیش کرنے والی جماعتِ اسلامی نے پاکستان کی نوجوان نسل کو سیاست کا ایک نیا رخ دکھایا ہے، خاص طور پر اس نسل کو جسے جین زی کہا جاتا ہے اور جس کے لیے سیاست کا مطلب ہلڑ بازی، شور شرابا، گالی گلوچ یا پھر چاپلوسی ہی تھا۔ جنہوں نے سیاست کو ذاتی مفادات کے لیے اس قدر گرتے دیکھا کہ قومی سیاست دانوں نے ایک دوسرے کے بیڈ روم تک کو ننگا کر دیا، شادی، نکاح و طلاق جیسے انتہائی نجی معاملات کو بھی سیاسی انتقام کے لیے کورٹ کے چہری تک لے کر آئے۔
ایسے سیاسی ماحول میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تربیت یافتہ جماعت نے سیاست کو ایک خوبصورت رنگ دیا اور اسے خدمت و مدد کا ذریعہ بنا دیا۔ بلاشبہ آج پاکستان میں جہاں کہیں بھی کوئی مشکل وقت آتا ہے، عوام کی نظریں، بلا تفریقِ مذہب، رنگ، نسل اور زبان، جماعتِ اسلامی کی طرف اٹھتی ہیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی جماعتِ اسلامی کی قیادت میں جاری دھرنا ہے، جس میں نوجوانوں کو ہلڑ بازی اور شور شرابے کی سیاست سے نکال کر تعمیرِ کردار اور تعمیرِ وطن کے لیے مثبت رویوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔ نوجوانوں اور طلبہ کے مسائل کے لیے کورٹ روم میں نوجوانوں کو دلائل کے ساتھ اپنے مسائل پیش کرتے ہوئے دیکھنا بلاشبہ ایک خوش گوار منظر تھا۔ 12 ربیع الاول کے بابرکت موقع کو بھی ضائع نہیں کیا گیا، بلکہ اسے زیادہ معنی خیز انداز میں منایا گیا۔ مدحتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نعت خواں حضرات کے ساتھ ساتھ دھرنے میں موجود نوجوانوں کی شرکت نے ایک خوبصورت سماں پیدا کر دیا۔ وہیں خواتین اور نوجوان بچیوں کو بھی سیرتِ رسول ﷺ سے جوڑنے کے لیے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔
جماعتِ اسلامی کا دھرنا عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ایسا پلیٹ فارم ہے جو ذاتی انتقام اور پسند و ناپسند کو بنیاد بنا کر حکومت پر تنقید نہیں کر رہا، بلکہ حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ حکومتی ناانصافیوں اور غلط پالیسیوں کو عوام کے سامنے رکھ رہا ہے۔جماعتِ اسلامی کا دھرنا بلاشبہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک خوبصورت سنگِ میل ہے کہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں عوامی زندگی کو بے چین کیے بغیر عوامی حقوق کی جنگ جاری ہے۔ ان دھرنوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جو لوگ اجتماعی کاموں کے لیے اٹھتے ہیں، ان کے اندر حوصلہ، صبر اور درگزر کا ہونا لازمی ہے۔جماعتِ اسلامی کے دھرنے میں جماعت سے وابستہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اسٹیج پر نظر آتی ہے، مگر یہ نوجوان باقی سیاسی جماعتوں کے نوجوانوں سے ہٹ کر اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ اپنی تقریروں میں خوبصورت اور باوقار لہجے کے ساتھ دلائل، جوش اور اخلاقیات کا دامن مضبوطی سے تھامے یہ نوجوان یقیناً آنے والے وقت میں ملکی سیاست میں ایک خوبصورت اضافہ ثابت ہوں گے۔اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنا ہو تو ضروری نہیں کہ ملکی املاک کو نقصان پہنچایا جائے یا اپنے مخالفین کی عزتوں کو اچھالا جائے۔ جماعتِ اسلامی کے احتجاجی دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد بلا کسی خوف و خطر شریک ہو کر اپنا کردار ادا کر رہی ہے، جو باعثِ اطمینان اور فخر ہے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ قومی سطح پر ایک ایسی سیاسی جماعت اور ایسے سیاسی کارکن موجود ہیں جو اعلیٰ اخلاق اور تربیت کی وجہ سے باقی جماعتوں سے مختلف نظر آتے ہیں۔پاکستان کے طول و عرض میں جماعتِ اسلامی کے دھرنوں نے ایک نئی امید جگائی ہے۔ عوام اپنے حقوق کی جنگ میں اس دھرنے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔





















Add Comment