Home » blog page » بلاگ » اپنی تاریخ کو پھر سے ترتیب دو – طلعت نفیس
بلاگ

اپنی تاریخ کو پھر سے ترتیب دو – طلعت نفیس

رات کے پچھلے پہر شہر کی سڑکیں غیر معمولی طور پر خاموش تھیں۔ ایسی خاموشی تھی، جیسے موت کا سناٹا۔ریحانہ نے کھڑکی کا پردہ ہٹا کر باہر دیکھا۔ گلی کے کونے پر پولیس کی گاڑی کھڑی تھی۔ چند لوگ خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔

“کون؟”
“میں ہوں، خالہ۔۔۔ حامد۔”
ریحانہ نے دروازہ کھولا تو سامنے سترہ، اٹھارہ سالہ حامد کھڑا تھا۔ ہاتھ میں ایک کاغذ تھا اور آنکھوں میں عجیب سی مایوسی۔
“خالہ! امی کہہ رہی تھیں، ابا کے بارے میں کوئی خبر آئی؟”
وہ چند لمحے خاموش رہی۔
“نہیں بیٹا۔۔۔ ابھی تک نہیں۔” حامد نے کاغذ سینے سے لگا لیا۔

“سب کہہ رہے ہیں خاموش رہو۔ ابا بھی یہی کہتے تھے کہ بیٹا، حالات خراب ہیں، کسی سے الجھنا نہیں۔”
وہ اچانک کربناک ونسی ہنسا۔
“مگر خالہ، اگر سب خاموش ہو جائیں تو سچ بولے گا کون؟”
ریحانہ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ صبح ہوئی تو شہر کے چوراہے پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ کوئی اپنے معصوم بچوں پر ہونے والے مظالم پر نوحہ کناں تھے۔ایک طرف وہ لوگ تھے جن کے گھروں کے چراغ بجھ چکے تھے، ظلم کا شکار ہونے والے۔ کسی کا باپ لاپتہ تھا۔ دوسری طرف وہ لوگ تھے جو اپنی اپنی فائلیں، بیانات اور پریس ریلیز سنبھالے کھڑے تھے۔
ایک بوڑھی عورت ہجوم کو چیرتی ہوئی آگے بڑھی۔

“کوئی یہ تو بتاؤ، میرا بیٹا کہاں ہے؟”
وہاں کھڑے ہر فرد کا سر جھکا ہوا تھا۔
“کل تک وہ میرے ساتھ تھا۔”
ایک افسر نے اسے پیچھے ہٹایا۔
“اماں، گھر جائیں۔”
بوڑھی عورت نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔

“جس گھر میں بیٹا نہ ہو، اسے گھر کہتے ہیں کیا؟”
لوگوں کے چہروں پر خاموشی اتر آئی۔
حامد بھی وہیں کھڑا تھا۔ اس نے جیب سے وہی کاغذ نکالا۔ وہ اس کے والد کی آخری تحریر تھی۔
“بیٹا! اگر کبھی ایسا وقت آئے کہ سچ بولنے سے ڈر لگے تو یاد رکھنا۔ خاموشی سے امن نہیں ہوتا، کبھی کبھی خاموشی ظلم کی مضبوط دیوار بن جاتی ہے۔”
حامد نے کاغذ تہہ کیا، پھر ایک قدم آگے بڑھایا۔
“میں اپنے ابا کی بات مکمل کروں گا۔”
اماں نے گھبرا کر اسے بازو سے پکڑ لیا۔

“نہیں حامد! تم ابھی بچے ہو۔”
حامد نے ماں کی طرف دیکھا۔
“امی۔۔۔ اگر میں بھی ڈر گیا تو ابا کی آواز کون بنے گا؟”
اگلے دن شہر کے مختلف حصوں میں چھوٹے چھوٹے چراغ جلنے لگے۔کسی نے اپنے دروازے پر شمع رکھ دی۔کسی نے دیوار پر ایک جملہ لکھ دیا:
“ہم دیکھ رہے ہیں۔”
کسی ماں نے اپنے بیٹے کی تصویر اٹھا لی۔کسی باپ نے برسوں بعد گھر سے نکل کر سچ بولنے کا فیصلہ کیا۔

اور حامد؟
وہ شہر کے ایک چھوٹے سے چوک میں کھڑا تھا۔ اس کے سامنے چند درجن لوگ تھے۔اس نے مائیک ہاتھ میں لیا۔
“ہم کسی سے بدلہ نہیں چاہتے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ انسان کی جان کی قیمت ہو، ماں کے آنسو کی قیمت ہو، سچ کی قیمت ہو۔”
ہجوم میں سے ایک آواز آئی:
“اگر تمہیں خاموش کرا دیا گیا تو؟”
حامد نے چند لمحے آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج ابھی طلوع ہو رہا تھا۔وہ مسکرایا۔

“ایک آواز خاموش ہوگی۔۔۔ تو دوسری اٹھے گی۔ دوسری خاموش ہوگی تو تیسری۔”
اس نے لوگوں کی طرف دیکھا۔
“کیونکہ روشنی کو ہمیشہ کے لیے قید نہیں کیا جا سکتا۔”
اسی لمحے ایک بوڑھی عورت آگے بڑھی۔ اس نے حامد کے ہاتھ میں شمع تھما دی۔
“بیٹا۔۔۔ اسے بجھنے مت دینا۔”حامد نے شمع دونوں ہاتھوں میں تھام لی۔

ہوا تیز تھی۔ شعلہ بار بار کانپ رہا تھا، مگر بجھ نہیں رہا تھا۔
اور اس دن شہر نے پہلی بار محسوس کیا کہ اندھیرے کی طاقت صرف اتنی ہوتی ہے، جتنی دیر لوگ اندھیرے سے ڈرتے رہتے ہیں۔
اس کے بعد ہر شام ایک نیا چراغ جلنے لگا۔

کسی ماں کے ہاتھ میں۔

کسی بچے کی کھڑکی پر۔۔۔

کسی مزدور کی جھونپڑی میں۔۔۔

اور کسی نوجوان کے دل میں۔
شہر اب بھی مکمل طور پر نہیں بدلا تھا۔مگر ایک چیز ضرور بدل گئی تھی۔لوگ ڈر کے باوجود گھروں سے نکل کر بولنے لگے تھے۔اور جب مظلوم بولنا شروع کرتے ہیں تو تاریخ کا رخ بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔