Home » blog page » اسلام » آزمائش کی بھٹیوں میں تپ کر رحمتہ اللعالمین بننے والے – خیرالنساء بلوچ
اسلام

آزمائش کی بھٹیوں میں تپ کر رحمتہ اللعالمین بننے والے – خیرالنساء بلوچ

آزمائش کی بھٹیوں میں تپ کر خلیل اللہ بننے والے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند اسماعیل علیہ السلام مکہ کے وسط میں خانۂ کعبہ کی تعمیر کر رہے ہیں اور ساتھ میں یہ دعا بھی کر رہے ہیں .
“اے ربِ کائنات! اس گھر، خانۂ کعبہ، کو امن کا گھر بنا دے اور میری اولاد کو دنیا کا امام بنا۔”

ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ جتنا بڑا عہدہ، اس کی آزمائش اور اس کی تیاری بھی اتنی ہی بڑی ہے، مگر اس کے باوجود اپنی اولاد کے لیے یہی دعا مانگتے ہیں۔ دعا قبول ہوئی۔ اسماعیل علیہ السلام، ذبیح اللہ، کے خانوادے میں محمد رسول اللہ ﷺ کی پیدائش ہوئی۔ دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی یتیمی کی آزمائش عطا کی گئی۔ کم سنی میں ماں کی محبت کی ٹھنڈی چھاؤں سے محروم ہوئے، کچھ عرصے بعد شفقت کرنے والے دادا بھی داغِ مفارقت دے گئے۔ یہ وہ آزمائشوں کا راستہ تھا جس پر ایک حسین عمارت تعمیر ہونے والی تھی۔ غارِ حرا کے اندھیروں میں وحی کی روشنیوں سے منور ہوئے۔ یہ روشنیاں ایسے تاریک ماحول میں چمکیں جہاں جہالت کی ظلمت سمندر کی سیاہ رات کی طرح چھائی ہوئی تھی۔ شراب، جوا، قتل، زنا، طاقت کے زور پر غلط کو صحیح قرار دینا اور کمزور کو اس کے حق سے محروم کر دینا پورے مکہ کا چلن تھا۔ جب دعوت شروع کی تو سب سے پہلے اپنے پیاروں کو پکارا، وہ جن کے درمیان معصوم بچپن گزرا، جنہوں نے بے داغ جوانی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ خوشی خوشی انہیں خبر سنائی کہ اللہ نے اپنی ہدایت کی ساری روشنیاں ان پر انڈیل دی ہیں۔

سامنے وہی لوگ تھے جن کے ساتھ بچپن گزرا تھا، جن کے ساتھ رشتے اور محبتیں تھیں۔ وہ چچا ابو لہب بھی تھا جس نے آپ ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی کو آزاد کیا تھا۔ مگر حق تو نام ہی آزمائش کا ہے اور مکہ اس آزمائش میں ناکام ہوا۔ محمد بن عبداللہ ﷺ کے کندن بننے کا سفر شروع ہوا۔محمد بن عبداللہ ﷺ کی پیدائش کی خوشیاں منانے والے، آپ ﷺ کی صداقت اور امانت کے گن گانے والے، آپ ﷺ کو اپنے فیصلوں میں ثالث ماننے والے، اب آپ ﷺ کی جان کے درپے ہو گئے تھے۔ کبھی پیٹھ پر جانوروں کی غلاظت ڈالی جاتی تو کبھی راستے میں کانٹے بچھائے جاتے۔ایسے میں ایک شریکِ سفر تھیں جو دل پر مرہم رکھتی تھیں اور جن کی موجودگی حوصلہ دیتی تھی۔ وہ خدیجہؓ تھیں، جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا۔رات چاہے کتنی طویل تر ہی کیوں نہ ہو، صبح کا آنا لازمی امر ہے۔طائف کی طرف نکلے کہ شاید سرسبز باغوں میں رہنے والوں کے دل و دماغ بھی سرسبز ہوں اور وہ مان لیں کہ الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ مگر افسوس! شہر جتنا خوبصورت تھا، دل، کردار اور سوچیں اتنی ہی بدصورت تھیں۔ ان بدصورت رویوں کی صورت میں پتھر برسے اور آپ ﷺ کو لہولہان کر گئے۔

یہ وہ لمحہ تھا جب آزمائش اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی، مگر رحمتِ عالم ﷺ کے دل میں بددعا نہیں تھی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور ان کے ساتھ پہاڑوں کا فرشتہ بھی آیا۔ اس نے عرض کیا کہ اگر آپ چاہیں تو ان لوگوں پر دونوں پہاڑ ملا دیے جائیں۔مگر رحمت للعالمین ﷺ نے بدلہ لینے کے بجائے ان کی آنے والی نسلوں سے امید وابستہ کی کہ شاید ان میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو ایک اللہ کی عبادت کریں۔یہی تو ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا رنگ تھا؛ آزمائش کے جواب میں صبر، تکلیف کے جواب میں امید اور ظلم کے جواب میں رحمت۔اسماعیل علیہ السلام کے فرزند تھے، اس لیے ایک اور آزمائش سامنے آئی۔ اپنے اندر موجود مکے کی محبت کو قربان کرنا تھا اور ایک اجنبی سرزمین کی طرف ہجرت کرنا تھی۔ جانتے تھے کہ ہجرت میں ایڑیاں رگڑنی پڑتی ہیں، بھوک، پیاس اور خوف برداشت کرنا پڑتا ہے، مگر صبر کیا۔ مکہ کی جدائی نے دل کو اداس کیا، مگر عمل اور زبان نے اپنے مقصد کے لیے نئے کھیت کی تیاری کے لیے مدینے میں ہل چلانا شروع کر دیا تھا۔ مکہ سے مدینہ کی ہجرت محض ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر نہیں تھا؛ یہ ایک مقصد کے لیے اپنی محبوب سرزمین کو چھوڑ دینے کا نام تھا۔

حل کتنا مشکل ہوتا ہے، یہ کوئی کسان ہی سے پوچھے۔ جب بہت عرصے تک زمین پر بارش نہ پڑے تو مٹی اندر سے سوکھ جاتی ہے۔ اسے نرم کرنے کے لیے دوہری محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس دوہری محنت کا پھل بدر میں ملا۔اپنے قافلے والوں کو یہ سکھایا اور بتایا کہ سفر چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، مقامِ بدر ضرور آتا ہے۔مکہ کی پہاڑیوں میں تیر برستے تھے، پتھر برستے تھے، کانٹے اچھالے جاتے تھے، مگر سارے وار سامنے سے کیے جاتے تھے۔مدینے کے باغوں میں بہت سے سانپ چھپے بیٹھے تھے۔ پھر سکھایا کہ جب مدینے میں سانپوں کی بہتات ہو تو باغ جلایا نہیں کرتے، بس حکمت سے سانپوں کا زہر نکالا جاتا ہے۔اور جب اُحد کا پہاڑ اپنی اونچائی سے بڑی آزمائش لے کر آیا تو حمزہؓ جیسے بہادر سپاہی حق کے راستے میں آگے کھڑے تھے۔ یہ وہ سفر تھا جس میں کبھی فتح ملی، کبھی زخم آئے، مگر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹا۔ سفر جاری رہا، اس یقین کے ساتھ کہ مکہ کے پہاڑ، مکہ کے نخلستان، ایک دن استقبال کے لیے خود شہر کے دروازے تک آئیں گے۔بس صبر کے ساتھ چلتے رہنا، کیونکہ اللہ کبھی صبر کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔

اور پھر خلیل اللہ کی دعا یوں پوری ہوئی کہ اسی مکہ میں، اسی خانۂ کعبہ کے سامنے، وہ دن بھی آیا جب فتح مکہ کے موقع پر رحمت، عفو اور بخشش کا منظر دنیا نے دیکھا۔یہ صرف مکہ کی فتح نہیں تھی، یہ صبر کی فتح تھی۔ یہ اس یقین کی فتح تھی کہ آزمائش کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اللہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا۔ابراہیم علیہ السلام کی دعا ایک ایسی حقیقت بن کر سامنے آئی کہ ان کے خانوادے میں وہ ہستی تشریف لائی جسے اللہ نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔آزمائش کی بھٹیوں میں تپ کر محمد رسول اللہ ﷺ کندن بنے، اور دنیا کو یہ سکھا گئے کہ صبر صرف مصیبت برداشت کرنے کا نام نہیں؛ صبر امید کا نام ہے، رحمت کا نام ہے، اور اللہ کے وعدے پر یقین کا نام ہے۔آزمائش جتنی طویل ہوگی جدوجہد اتنی مشکل ہوگی۔ اس کا نتیجہ اتنا ہی خوبصورت اور دیر پاں ہو گاآج جب کہ حالات بھنور کشتی کو الٹانے کے در پہ ہے ۔تو مکہ اور طائف کا سفر کیجئے اس یقین اور امید کے ساتھ کہ مدینے کے باغ ضرور ملیں گے انشاءاللہ ۔