Home » blog page » سائنسی کارنامے » کوما سے جاگنے کے بعد 19 سالہ لڑکی کو سات سالہ فرضی ازدواجی زندگی یاد رہنے کا دعویٰ
سائنسی کارنامے

کوما سے جاگنے کے بعد 19 سالہ لڑکی کو سات سالہ فرضی ازدواجی زندگی یاد رہنے کا دعویٰ

فرانس میں ایک 19 سالہ لڑکی کے حوالے سے ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے انسانی دماغ اور یادداشت کی پیچیدگیوں پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ’سلیلیا ویرڈئر‘ نامی نوجوان لڑکی ایک طبی پیچیدگی کے باعث تین ہفتوں تک کوما میں رہی۔ ہوش میں آنے کے بعد اس نے اپنے اہلِ خانہ اور اسپتال انتظامیہ سے اپنے شوہر اور بچوں کو بلانے کا مطالبہ کیا۔حیران کن طور پر نوجوان لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ ایک شخص سے محبت کے بعد شادی کر چکی ہے اور گزشتہ سات برس سے اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کی تین بیٹیاں ہیں، جن میں سے ایک انتقال کر چکی ہے جبکہ دو اب بھی اس کے ساتھ ہیں۔

تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ لڑکی نہ تو شادی شدہ تھی اور نہ ہی اس کے کوئی بچے تھے۔ اہلِ خانہ نے اسے صورتحال سمجھانے کی کوشش کی، مگر اسے اپنی بیان کردہ زندگی اور اپنے ’خاندان‘ کی جدائی کا شدید صدمہ محسوس ہوا۔رپورٹ کے مطابق اس کیفیت کے باعث نوجوان لڑکی ذہنی دباؤ اور شدید غم کا شکار ہوگئی، جس کے بعد اس کا نفسیاتی علاج شروع کیا گیا۔ماہرین کے لیے اس واقعے کا اہم پہلو یہ ہے کہ کوما میں جانے سے قبل لڑکی معمول کی زندگی گزار رہی تھی، جبکہ بیدار ہونے کے بعد اسے ایک ایسی ازدواجی زندگی کی واضح یادیں محسوس ہوئیں جو حقیقت میں کبھی وجود ہی نہیں رکھتی تھی۔

تاہم اس واقعے کی آزادانہ طبی تصدیق اور اس میں بیان کیے گئے تمام دعووں کی مستند تفصیلات واضح نہیں ہیں، اس لیے اسے حتمی طبی حقیقت کے بجائے ایک مبینہ کیس کے طور پر دیکھنا چاہیے۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ انسانی دماغ، یادداشت اور شعور کے بعض پہلو آج بھی سائنس کے لیے پیچیدہ معمے ہیں۔