Home » blog page » ادب » محبتِ رسول ﷺ – مریم شفیق
ادب

محبتِ رسول ﷺ – مریم شفیق

صبح کا وقت تھا۔ کلاس میں بچے اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔ کھڑکیوں سے آنے والی نرم دھوپ کلاس روم کو روشن کر رہی تھی۔ اتنے میں مس مریم مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوئیں۔

“السلام علیکم! صبح بخیر بچوں، کیسے ہیں آپ سب؟”
بچوں نے یک زبان ہو کر جواب دیا،
“وعلیکم السلام مس! ہم بالکل خیریت سے ہیں۔”
فریحہ نے خوشی سے ہاتھ بلند کیا،
“مس! آپ کو معلوم ہے، 12 ربیع الاول کا چاند نظر آ گیا ہے؟”

مس مریم نے مسکرا کر کہا،
“جی بیٹا، مجھے معلوم ہے۔”
فریحہ فوراً بولی،
“مس! آپ ہمیں نعتیں یاد کروائیں گی نا؟ ہماری امی کہتی ہیں کہ جہاں بھی محفل ہو، وہاں لازمی نعت پڑھنی چاہیے، بہت ثواب ہوتا ہے اور ہمارے نبی ﷺ بہت خوش ہوتے ہیں۔ امی نے یہ بھی کہا ہے کہ نعت کے وقت ہاتھوں کو چومنا چاہیے اور 12ربیع الاول کے دن بہت سا لنگر بھی بانٹنا چاہیے، پھر اگلے سال آنے سے پہلے ہمارے گھروں میں بہت برکت ہو جائے گی۔”
مس مریم نے محبت سے فریحہ کی طرف دیکھا اور نرمی سے بولیں:

“ارے بیٹا فریحہ! ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت کرنا یقیناً ہمارے ایمان کا حصہ ہے، لیکن محبت کا صحیح طریقہ وہی ہے جو آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا۔۔۔۔۔اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ نے عمل کیا ۔۔۔۔۔ہر وہ کام جو ہم محبت سمجھ کر کریں، ضروری نہیں کہ وہ سنت بھی ہو۔”
بچے خاموشی سے مس مریم کی بات سننے لگے۔
مس مریم نے کہا:
“یہ حقیقت ہے کہ ربیع الاول وہ مہینہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی، اور اسی مہینے میں آپ ﷺ کا وصال بھی ہوا۔ البتہ 12 ربیع الاول کے بارے میں ولادت کی تاریخ قطعی طور پر متفق علیہ نہیں، جبکہ آپ ﷺ کے وصال کے حوالے سے 12 ربیع الاول کا قول مشہور ہے۔ اس لیے ہمیں ایسے معاملات میں جذبات کے ساتھ ساتھ مستند علم سے بھی کام لینا چاہیے۔”
فریحہ نے معصومیت سے پوچھا،
“تو مس! پھر ہم اپنے نبی ﷺ سے محبت کیسے کریں؟”

مس مریم کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ پھیل گئی۔
“بیٹا! محبت صرف خوشی منانے کا نام نہیں۔ سچی محبت یہ ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی سیرت کو جانیں، آپ ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی میں اپنائیں، سچ بولیں، امانت دار بنیں، والدین کا احترام کریں، پڑوسیوں اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں اور نماز کی پابندی کریں۔”
وہ چند لمحے رُکیں، پھر بولیں:
“اور بچوں! یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ رسول اللہ ﷺ صرف عبادات سکھانے نہیں آئے تھے، بلکہ آپ ﷺ انسانوں کو تمام جھوٹے خداؤں کی بندگی سے نکال کر بس ایک رب کی بندگی یعنی توحید،کی دعوت دینے آئے تھے۔ عدل، رحم، سچائی اور اعلیٰ اخلاق کا راستہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔ آپ ﷺ کا مشن ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا تھا جہاں انسان انسان کا حق نہ مارے، ظلم نہ کرے اور اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکے۔”

پھر مس مریم نے پُرجوش انداز میں کہا:
“اگر ہم واقعی اپنے نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کے مشن کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا؛ اپنے گھر سے سچائی، اپنے رویے سے رحمت اور اپنے کردار سے عدل کا آغاز کرنا ہوگا۔ یہی محبتِ رسول ﷺ کا زندہ ثبوت ہے!
“اور ایک بہت پیاری بات یاد رکھو۔ رسول اللہ ﷺ نے پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اپنی ولادت کے دن کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت پر شکر اور عبادت کا ایک مسنون طریقہ روزہ بھی ہے۔”
فریحہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
“مس! یعنی ہمیں صرف نعتیں پڑھنے یا لنگر بانٹنے پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنی زندگی بھی نبی ﷺ کی سنت اور تعلیمات کے مطابق بنانی چاہیے؟”

“بالکل بیٹا!” مس مریم نے خوش ہو کر کہا۔
“ہم آج سے ایک خوبصورت عہد کرتے ہیں۔ ہر روز رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت سیکھیں گے، اسے سمجھیں گے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت یہی ہے کہ ہماری زندگی آپ ﷺ کی تعلیمات کا عکس بن جائے۔۔۔۔۔اصل محبت یہ ہے کہ پورے معاشرے کو اسوہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم سکھانے کی فکر اور درد ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو پورا کرنے کا عزم ہو ۔ ہمیں آپ ﷺ کے پیغامِ توحید، عدل، رحمت اور حسنِ اخلاق کو اپنی زندگیوں میں اپنا کر اپنے عمل سے اپنی محبت کا ثبوت دینا ہو گا۔۔۔۔۔تا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ ہم سے راضی ہو جائے اور ہم کامیاب لوگوں کی فہرست میں آ جائیں ۔امین ثمہ آمین ۔

About the author

Avatar photo

Blog Desk

Add Comment

Click here to post a comment