Home » blog page » قومی خبریں » کراچی بی آر ٹی منصوبے میں ے ضابطگیوں کا انکشاف
قومی خبریں

کراچی بی آر ٹی منصوبے میں ے ضابطگیوں کا انکشاف

کراچی کے اہم عوامی ٹرانسپورٹ منصوبے بی آر ٹی (Bus Rapid Transit) سے متعلق ایک نئی رپورٹ نے مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ منصوبے میں تقریباً 8.5 ارب روپے کی مشتبہ ادائیگیوں اور بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر متعلقہ اداروں سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کی پلاننگ اور عملدرآمد کے مختلف مراحل میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بعض ٹھیکوں کی منظوری، فنڈز کے استعمال اور تعمیراتی اخراجات میں شفافیت کے فقدان پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ان معاملات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض کنسلٹنٹس اور ٹھیکیداروں کو قواعد سے ہٹ کر مالی فوائد پہنچانے کے الزامات زیرِ غور ہیں۔ رپورٹ میں منصوبے کی تکمیل میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور معیارِ تعمیر سے متعلق خدشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن کی وجہ سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں جدید ٹرانسپورٹ منصوبے شہریوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں، تاہم ایسے منصوبوں میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر بے ضابطگیوں کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔

دوسری جانب متعلقہ حکام کی جانب سے موقف سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ رپورٹ پر مزید بحث اور تحقیقات کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ عوامی حلقے بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔