14 اگست کا دن جیسے جیسے قریب آ رہا تھا، ملک بھر کی رونقیں بڑھتی جا رہی تھیں۔ بچے ہری بھری جھنڈیاں سجانے میں مصروف تھے، عید کا سماں تھا؛ گھر کے بڑے، چھوٹوں کو دیکھ کر تسکین پا رہے تھے۔
عبداللہ، جو کہ گیارہ سال کا تھا اور اپنے دادا جان اور دادی جان کا لاڈلا پوتا تھا، آنگن میں بھاگتا دوڑتا رہتا۔ اس کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔ عبداللہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر رات بارہ بجے تک اپنی گلی کو سبز و سفید جھنڈیوں سے سجاتا رہا تھا اور جشنِ آزادی منانے کی خوشی میں وہ زیادہ دیر تک سو بھی نہیں سکا تھا۔
عبداللہ جب دالان میں اندر داخل ہوا تو دادا جان اخبار پڑھنے میں اتنے محو تھے کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ آیا ہوا ہے۔ عبداللہ نے اپنے دادا جان کو “السلام علیکم” کہا تو دادا جان نے جواب میں “وعلیکم السلام” کہا، پھر عبداللہ کو دیکھ کر مسکرائے اور اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔
عبداللہ اپنے دادا جان سے پوچھنے لگا کہ: “دادا جان! اخبار میں کیا پڑھ رہے تھے؟”
تو دادا جان نے کہا: “جب بھی 14 اگست کا دن آتا ہے تو 1947ء کے دردناک واقعے کی یاد تازہ ہو جاتی ہے اور یہ زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔”
پھر دادا جان نے اپنے بچپن کی بات بتائی کہ: “جب ہم بھی تمہاری طرح بچے تھے تو وطنِ عزیز کی محبت کا جوش و خروش اور جذبہ اس عروج پر پہنچ جاتا تھا کہ سارا دن بھوک پیاس کی پروا کیے بغیر بس گھر اور محلے کو سجانے میں لگے رہتے تھے۔”
آج موسم بہت خوشگوار ہے اور 14 اگست کا دن بھی ہے، سبز ہلالی پرچم کی بہار ہے۔ پاکستان کے چپے چپے اور گوشے گوشے میں، ہر طرف گھر کی چھتوں پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔
عبداللہ نے اپنے دادا جان سے شام میں قیامِ پاکستان کی کہانی سننے کی فرمائش کی۔ جب بھی دادا جان کوئی کہانی یا قصے وغیرہ سنایا کرتے تھے تو عبداللہ اپنے سب دوستوں کو اپنے گھر بلا لیا کرتا تھا۔ شام ہوئی تو عبداللہ کے سب دوست—شانزے، وانیا، ایمان، فاطمہ، محمد اور مہروز—سب عبداللہ کے گھر اکٹھے ہو گئے۔ دادا جان جب کمرے میں داخل ہوئے تو سب دوست ان کے گرد گھیرا ڈال کر بیٹھ گئے۔
پھر دادا جان نے قیامِ پاکستان کی کہانی سنانا شروع کی:
“14 اگست 1947ء ہماری تاریخ کا روشن اور سنہری دن ہے اور 14 اگست کا دن ہر سال پاکستان میں آزادی کی نسبت سے منایا جاتا ہے۔ آج بھی جشنِ آزادی عروج پر ہے، پاکستان اپنی آزادی کے 78 ویں برس میں داخل ہو رہا ہے۔ گویا مملکتِ خداداد اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس وقت جو کچھ بھی ہے، جیسا بھی ہے، دو چار برس کی بات نہیں بلکہ پوری صدی کا قصہ ہے۔”
14 اگست کا سورج طلوع ہوتا ہے تو یومِ آزادی بھرپور انداز میں منانے کے لیے بچے کیا، بڑے سبھی متحرک ہو جاتے ہیں۔ بازار سے گزرتے ہوئے سڑکوں کے اطراف پرچموں اور جھنڈیوں کے اسٹال، بیجز اور اسٹیکرز کی خریداری کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ خریداروں کا جمِ غفیر دیکھ کر مسلمانوں کی خوشی کی انتہا نہیں ہوتی۔ ہوا تیز ہو یا آہستہ، پرچم لہرا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
آزادی کی نعمت اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ یہ نعمت آگ و خون کے سمندر سے گزر کر حاصل کی گئی ہے۔ لاکھوں مسلمانوں کی جانیں اس نعمت کے حصول کے لیے دی گئیں۔ کروڑوں عوام نے قربانیاں دیں اور آج بھی کروڑوں اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں؛ ہزاروں، لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔
آزادی ایک عطیہ ہے، ایک ذمہ داری بھی اور ایک انعام بھی! اقوامِ عالم میں خوشی و مسرت کا یہ لمحہ اپنے جلو میں قربانیوں اور آزمائشوں کے دلدوز مناظر لیے ہوئے تھا۔ اس آزمائش میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کی بے لوث قیادت نے عوام کے جذبے کو مضبوط بنایا اور برصغیر کے بکھرے اور منتشر مسلمانوں کو قائد اعظم کی قیادت میں ایک لڑی میں پرو دیا۔
ہم پاکستان میں آزادی کے ساتھ رہتے ہیں۔ آزادی کی سالمیت کا اندازہ اس پرندے سے لگایا جا سکتا ہے جو پنجرے میں قید اپنی پوری زندگی گزار دیتا ہے۔
آج پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے 77 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، پاکستان اب بھی ناگزیر ہے۔ آج کی نسل اگر پاکستان سے خائف ہو رہی ہے تو دل دکھ سے بھر جاتا ہے کہ پاکستان میں کیا کمی ہے؟ لیکن دل سے پوچھیں تو آواز آئے گی: “نہیں۔۔۔! میرے پاکستان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ میں بھی پاکستان ہوں، مجھے فخر ہے اپنے پاکستانی ہونے پر!”
پھر دادا جان جذبے کے ساتھ بولے:
“بیٹا! آپ خوش قسمت ہیں کہ آزاد وطن کی آزاد ہواؤں اور پرکیف فضاؤں میں آنکھ کھلی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم ایک بہترین قوم ہے، لیکن اس کو حکمران بہترین نصیب نہیں ہوئے۔”
پھر دادا جان نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی اور کہا:
“پاکستان کو غنیمت جانو، اس کی خیر مناؤ اور اس کی قدر کرو! پاکستان تمہارا ہے اور تم ہی اس کے رکھوالے ہو!”
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسبان اس کے!
دادا جان پھر بولے:
“ہم تو اپنا وقت گزار چکے، اور اب تم لوگوں کو اپنے کردار، خلوص، عزم و وقار، اور شرافت و شجاعت کی بے لوث خوشبو سے اس کے گوشے گوشے کو معطر کرنا ہے۔ رات دن کی محنت سے سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم حاصل کر کے کائنات کو تسخیر کرنا ہے؛ علم کی سیڑھی چڑھ کر چاند تاروں کی خبر لانا ہے اور دکھی انسانیت کی مانگ میں چاند تارے بھر دینا ہے۔
ہم امید لگا لیتے ہیں کہ کوئی خوفِ خدا رکھنے والا حکمران آئے گا اور پاکستان کا جو مقصد ہے، اس کا نعرہ ‘لا الہ الا اللہ’ کی تکبیر پیش کرے گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو کہ کوئی محبِ وطن قائد کے خوابوں کی تعبیر بن جائے!”
عبداللہ اور اس کے سب دوستوں کے چہرے ایک نئے جوش و جذبے سے چمک رہے تھے اور باآوازِ بلند ہو کر بولے:
“وطن کی خاطر تن من دھن سب قربان کر دیں گے اور پاکستان کا نام روشن کریں گے! اور ہمیں ‘ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی’ کا پیغام عام کرنا ہے۔ آمین!”
یومِ آزادی کے موقع پر پوری قوم اپنے اپنے طریقوں سے آزادی کو جوش و خروش اور جذبے کے ساتھ مناتی ہے اور ایک جھنڈے تلے جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہے، کیونکہ وطنِ عزیز لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔
ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں!
ہم سب کی ہے پہچان!
ہم سب کا پاکستان!
پاکستان، پاکستان، پاکستان!





















Add Comment