Home » blog page » بلاگ » پاکستان ہمارا ملک ہماری جان – سیدہ سمعیہ اعظم
بلاگ

پاکستان ہمارا ملک ہماری جان – سیدہ سمعیہ اعظم

14 اگست کے اتے ہی ہر ایک پاکستان کی آزادی کے واقعات سنانے لگتا ہے ٫ کوئی بتاتا ہے کہ کتنے ظلم و ستم کے بعد ہم نے یہ ملک حاصل کیا کوئی اس کی ترقی اور کامرانی کے راستے بتاتا ہے لیکن عمل اور سبق صفر ہوتا ہے ۔ان واقعات کو پری اور جن کی کہانیوں کی طرح سن کر مزہ لیا جاتا ہے اور پھر دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں ۔چند ایک کو چھوڑ کر کسی نے پاکستان کی واقعی ترقی اور اس کو اسلامی ریاست بنانے میں کوئی کردار ادا کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اسے ہمیشہ دوسروں کی ذمہ داری سمجھا گیا۔

کیا ہم میں سے کسی ایک نے بھی یہ سوچا کہ جس طرح ہمارا گھر گندا ہوتا ہے تو ہم سب مل کر صاف کرتے ہیں تو کیا ہم نے پاکستان کو اس طریقے سے صاف کرنے کی کوشش کی ؟
بے حیائی کا جن جس تیزی سے پاکستان میں پھیل رہا ہے اس پر ہم میں سے کتنے لوگوں نے آواز اٹھائی ہے !
جو لوگ آواز اٹھاتے ہیں ان کو دقیانوسی اور جاہل قرار دیا جاتا ہے ۔ممی ڈیڈی کلچر فروغ پا رہا ہے٫ بغیر دوپٹے پھرنے کو پڑھے لکھے اور امیر ہونے کی اور دوپٹہ ٫ پردہ غریب اور جاہل ہونے کی نشانی تصور کی جاتی ہے۔ نا انصافی کے اس ظالمانہ نظام کے خلاف کتنی انفرادی یا اجتماعی آوازیں اٹھائی گئیں! چاہے آج کے رضا میر کا کیس ہو یا افنان کا یا پنکی کا اور چاہے ننھی ہیزل، تمام واقعات میں انصاف کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آتا۔ حکومت پیٹرول پر لیوی کے نام پر جتنا ٹیکس یا بھتہ لے چکی ہے میرے خیال میں اس سے ملک کا قرض تو اتر ہی سکتا تھا لیکن ہائے رے قسمت!

لیکن ہم قسمت کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ جب ہمارے نصیبوں کے فیصلے اسلام اور پاکستان کی رو ح سے ہٹ کر کریں گے تو ہمارا حال یہی ہونا تھا جب مالی کو اپنے باغ کی فکر نہیں تو کیڑے مکوڑے تو اس باغ پر حملہ کریں گے ہی۔ جشن ازادی پر باجے بجانا موٹر سائیکل کے سلنسر پھاڑ کر گھومنا اور گانے گانا جھنڈیاں لہرانا یہ جشن نہیں، جشن تو یہ ہے کہ ہم رب کے شکر گزار بندے بنتے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے اس کی رحمت مانگتے اور اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق عمل کرتے تو اس کو آزادی کا جشن بھی سمجھا جاتا اور پاکستان ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہوتا . بجائے اس کے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے٫ ہم اور غلطیاں کرتے جاتے ہیں ہمیں اپنے ملک کی ترقی کے لیے نہ صرف دعائیں مانگنی ہیں بلکہ اس کے لیے ایک اچھی اور سمجھدار قیادت کا بھی انتخاب کرنا ہے جو ہمارے ملک کو ایک سچ مچ کی اسلامی ریاست بنا سکے ورنہ سارے خواب صبح ہوتے ہی ختم ہو جاتے ہیں ۔

ہمارا ملک ہماری جان
اپنے وطن پہ ہم قربان