Home » blog page » بلاگ » تجدید عہد – رومیصاء زبیر
بلاگ

تجدید عہد – رومیصاء زبیر

باجی، پوری رات لائٹ نہیں تھی، گرمی بہت تھی، نیند ہی نہیں آئی۔ صبح لائٹ آئی، مگر کیسے سوتے؟ کام پر جو آنا تھا۔۔۔
میں بچوں کو اسکول بھیج کر اپنا اور شوہر نامدار کا ناشتہ بنا رہی تھی کہ ماسی آ گئی اور اپنی کہانی سنانے لگی۔ میں نے ازراہِ ہمدردی ناشتے کا پوچھا تو جھجکتے ہوئے کہنے لگی، “دے دیں مجھے بھی۔۔۔ راشن ختم ہو گیا ہے۔ ہم دونوں ماں بیٹی بھوکے ہی کام کے لیے نکل آئیں۔”

دکھ کی ایک لہر دوڑ گئی۔۔۔۔
پچھلے دنوں کی بات ہے، میں نے اسے چائے دی۔ اسی دوران میں نے اپنا کپ منہ سے لگایا اور ایک گھونٹ بھرتے ہی واپس کھینچ لیا۔ چائے بالکل پھیکی تھی۔ میں نے اپنی ماسی سے کہا، “معذرت، میں چینی ڈالنا بھول گئی ہوں۔”
مگر اس نے یہ کہہ کر مجھے حیران کر دیا کہ “باجی، ہم تو چینی خریدتے ہی نہیں، ایسی ہی چائے پیتے ہیں۔ اب کون خریدے اتنی مہنگی چینی؟”
گھر میں جو سالن، روٹی اور چاول بچتے ہیں، بخوشی لے جاتی ہے۔ ایک دن میں نے کہا، “تم بھی کیا سوچتی ہو گی میرے بارے میں کہ یہ باجی تو بچا کھچا ہی دیتی ہے ہمیشہ۔”
کہنے لگی، “نہیں باجی، ہم اس کے لیے بہت شکر کرتے ہیں۔ اسی روٹی پانی کے لیے تو ہم اتنی محنت کرتے ہیں۔”
زندگی مشکل سے مشکل ترین کر دی گئی ہے۔۔۔ بے شک مڈل کلاس طبقہ سب سے زیادہ عتاب کا شکار ہے، مگر آدھا پاکستان جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، سوچئے، زندگی ان کے لیے کتنی دشوار ہو گئی ہے۔ بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی، گیس، بجلی اور پانی سے محرومی کے علاوہ جو حقیقت اہلِ فکر کو پریشان کر رہی ہے، وہ پوری قوم کی اخلاقی انحطاط اور گراوٹ ہے۔

اغوا اور زیادتی کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اسٹریٹ کرائمز کی بہتات ہے، عوام میں احساسِ عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔سال 2026 کے ابتدائی 6 ماہ میں بچوں کے اغوا کے 558 واقعات رپورٹ ہوئے۔ سماء نیوز کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ برس کے مقابلے میں بچوں اور خواتین کے خلاف اغوا اور جرائم کے تناسب میں مسلسل تشویش ناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کے جرائم میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں سال 2025 میں 8 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے کراچی کے 25 سالہ نوجوان کا ہائی پروفائل کیس جس طرح ڈیل کیا گیا، وہ پولیس سے لے کر ڈاکٹر اور متعلقہ تمام عملے کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت اور اس گلے سڑے نظام کا ایسا آئینہ ہے جسے اب پاش پاش کر دینے کو دل مچلتا ہے۔جب ان مسائل کی انتہا کو دیکھتی ہوں، خاص کر اغوا، زیادتیوں اور قتل کے کیسز کو، تو سوچتی ہوں کہ عوام کے صبر کا پیمانہ کیا اب بھی لبریز نہیں ہوا؟؟؟

ہم، بحیثیتِ قوم، کب اس قابل ہوں گے کہ ہم اس نظام اور اس کے گماشتوں سے ببانگِ دہل کہہ دیں کہ بس۔۔۔ اب مزید برداشت نہیں۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ ہم محض جھنڈے لہرا کر اور آزادی کے گیت گا گا کر یہ دن نہ گزار دیں، بلکہ یہ پختہ عہد کریں اور کرائیں کہ ان خود غرض اور بے حس حکمرانوں سے وطنِ عزیز کو آزاد کرانے کی جدوجہد کا حصہ بننا ہے، جنہوں نے ہر طبقۂ زندگی کے لیے جینا دشوار کر دیا ہے، جنہوں نے جینے کے بنیادی حق کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔اب ایسے آزاد و خوشحال پاکستان کے لیے پُرجوش جدوجہد کرنا ازحد ضروری ہو گیا ہے، جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا تھا۔اور تب ہی آزادی کی حقیقی خوشیوں کو ہم پا سکیں گے۔