Home » blog page » بلاگ » خاتون خانہ کی ڈائری – آفرین عبید
بلاگ

خاتون خانہ کی ڈائری – آفرین عبید

آج 2 اگست 2026 ہے 5 اگست کو بچوں کے اسکول کھل رہے ہیں اور میرا دل گھبرا رہا ہے۔

اسکول کی فیس سے لیکر انکی کھانے پینے کی اشیاء کیسے پوری کروں گی پچلھے مہینے شوہر کی نوکری چھوٹ گئ وہ بئکیا چلا کر گھر کی دال روٹی پوری کررہے ہیں ہم نے بچوں کو اس بات کی خبر نہیں ہونے دی کہ کہیں وہ کسی احساس کمتری کا شکار نہ ہوجائیں ۔مہنگائ کا عفریت لگتا ہے ہم سبکو نگل جائے گا۔ نااہل اور بدعنوان حکمرانوں کی اپنی جیب بھرو کی حکمت عملی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے بڑے بڑے بنگلوں میں رہنے والے اور ذاتی استعمال کے لئے جہاز خریدنے والوں کو کیا معلوم کے ہم کس طرح گزارہ کرتے ہیں۔

بجلی،گیس،فون حتکہ پانی تک ہم خود خرید رہے ہیں اور ہر ماہ بھاری بلوں کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ یہ کیسی نا انصافی ہے۔اللہ تو کہتا ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نہیں پھر کیوں ہم ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ ہی جیسے کسی نے اندر سے کہا بی بی تمھاری خواہشات کی بھی تو کوئی حد نہیں ہے۔ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی بجائے تم بھی تو مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو۔ اپنے بچوں کو تم نے پرآسائش زندگی دینے کے لئے قرضے تک لے رکھے ہیں۔ مقابلے کی دوڑ سے باہر آؤ۔

80 سال س اس ملک کا یہی حال رہا ہے جب تک اسلامی نظام نہیں لاگو ہوجاتا ایسا ہی رہے گا لہزا جب کوئی اس ظالمانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائے اس کے کندھے سے کندھا ملاؤ.اپنی خواہشات کو محدود رکھو اور بچوں کی تربیت اسلامی اصلوں کے مطابق کرو تو یہ مسئلہ ختم نہ بھی ہوسکے لیکن تمھارہ دل مطمئن ہوجائے گا۔اس سوچ پر عمل کرنے کے ارادے کے ساتھ میں نے گہری سانس لی اور عصر کی نماز کی ادائگی کے لئے اٹھ گئ۔