Home » blog page » بلاگ » مہنگائی کی زد میں دم توڑتے رشتے – ستارہ سلیم
بلاگ

مہنگائی کی زد میں دم توڑتے رشتے – ستارہ سلیم

کہتے تھے کہ خون کے رشتے کبھی نہیں ٹوٹتے۔ مگر آج کے دور نے ثابت کر دیا کہ جب جیب خالی ہو تو سب سے پہلے رشتے ہی دم توڑتے ہیں۔ اور اس قاتل کا نام ہے “مہنگائی”

1. رشتوں کا فاصلہ
پہلے عید، شادی، پر پورا خاندان جمع ہوتا تھا۔ گھر مہمانوں سے بھر جاتا تھا۔ آج پیٹرول 300 کا ہے، کرایہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ اس لیے سب فون پر ہی “مبارک ہو” کہہ کر فرض پورا کر لیتے ہیں۔ ملنا جلنا ختم، محبتیں سرد۔

2. شادیاں اور جہیز کا بوجھ
باپ بیٹی کے جہیز کے لیے قرض لیتے لیتے تھک گیا ہے۔ رشتہ آتا ہے تو پہلا سوال “جہیز کتنا دیں گے؟”۔ غریب باپ سر جھکا لیتا ہے۔

3. بیمار پر کوئی مہربان نہیں
پہلے کوئی بیمار ہوتا تو محلے والے پوچھنے آتے تھے۔ آج کوئی نہیں آتا۔ کیونکہ سب کو ڈر ہے “کہیں دوا کے پیسے نہ مانگ لے”۔ علاج اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ رشتہ دار بھی مریض سے کنارہ کر لیتے ہیں۔

اصل وجہ کیا ہے؟
مہنگائی نے ہمیں خودغرض بنا دیا ہے۔ ہم نے رشتوں کو “خرچہ” سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ حکمرانوں! آپ نے صرف چیزیں مہنگی نہیں کیں۔ آپ نے دلوں کے درمیان دیواریں کھڑی کر دیں۔ جس گھر میں رشتے نہ ہوں، وہاں محل بھی قبرستان لگتا ہے۔روٹی نہ ملے تو انسان ایک وقت بھوکا رہ لیتا ہے۔ لیکن جب اپنا ہی اپنا نہ رہے تو انسان زندہ لاش بن جاتا ہے۔ خدارا اس مہنگائی کو کنٹرول کرو۔ ورنہ ایک دن ہم سب پیسے والے تو ہوں گے، مگر رشتوں کے لیے ترسیں گے۔

“پیسہ آتا جاتا ہے، رشتے ٹوٹ جائیں تو واپس نہیں آتے”