Home » blog page » بلاگ » غزہ آج بھی جل رہا ہے – عشرت زاہد
بلاگ

غزہ آج بھی جل رہا ہے – عشرت زاہد

رات کا سناٹا تھا، غزہ کی گلیوں میں آگ لگی ہوئی تھی۔ شعلوں نے درجنوں گھروں کو اس طرح نگل لیا جیسے کاغذ کے گھر ہوں۔ ایک ہی رات میں کئی بچے، بڑے سب ملبے تلے دب گئے۔ صبح جب دھواں چھٹا تو ہر طرف بربادی تھی۔

ٹوٹی ہوئی دیواریں، چھتیں منہدم ہو چکی تھیں، اور فرش پر صرف راکھ اور ملبہ تھا۔ جن گھروں میں کل رات تک چراغ جلتے تھے، آج وہاں صرف اندھیرا ہے۔ جن کمروں میں لوریاں گونجتی تھیں، آج وہاں چیخوں کی گونج ہے۔ ننھے بچے غزائی کمزوری کا شکار ہیں، ادویات کا کوئی انتظام نہیں۔ نہ ہی علاج کی سہولت۔ سب سے دردناک بات یہ ہے کہ یہ لوگ بے گھر ہو کر بھی کہاں جائیں؟ سڑکوں پر خیمے لگا کر بیٹھے والدین اپنے بچوں کو دلاسا دے رہے ہیں۔

بچے سوال کر رہے اور والدین کے پاس جواب میں صرف خاموشی ہے۔ غزہ صرف بربادی کا نقشہ پیش نہیں کر رہا۔ یہ لوگ صبر کی اعلی مثال بھی قائم کر رہے ہیں۔ یہ ہر بمباری کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہاں کی ماں ملبے سے کھانے کا سامان نکال کر بچوں کو کھلاتی ہے ۔ اور کہتی ہے ، “بیٹا، اللہ دیکھ رہا ہے۔ وہ آزادی بھی دیگا اور یقینا کامیابی بھی دے گا”

اے دنیا والوں!
تمہارے سکون سے بھری راتیں اور ان کی جلتی راتیں ایک سی کیسے ہو سکتی ہیں؟ کیا انسانیت صرف تقریروں میں رہ گئی ہے؟
بلکہ اب تو کوئی ان کے حق میں بول بھی نہیں رہا۔ آج غزہ کے جلنے پر اگر ہم نے احتجاج نہ کیا اور ہم خاموش رہے تو اللہ نہ کرے کہ کل ہماری باری ہو۔