Home » blog page » بلاگ » بڑھتی ہوئی مہنگائی کا طوفان اور ہر دم ٹوٹتے رشتے – نیلم حمید
بلاگ

بڑھتی ہوئی مہنگائی کا طوفان اور ہر دم ٹوٹتے رشتے – نیلم حمید

صبح کی پہلی کرن ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہ تھی کہ فاطمہ نے باورچی خانے میں جا کر خالی ڈبوں پر نظر ڈالی؛ آٹے کا ڈبہ تقریباً خالی تھا، چینی ختم ہو چکی تھی اور گھی بھی بوتل میں بس ذرا سا رہ گیا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے خاموش کھڑی رہی، پھر ایک گہرا سانس لے کر بچوں کے لیے ناشتہ تیار کرنے لگی۔

عامر، اس کا شوہر، ایک نجی ادارے میں ملازم تھا۔ چند سال پہلے تک اس کی تنخواہ سے گھر کا خرچ آسانی سے چل رہا تھا، مگر اب روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ہر چیز کو مشکل بنا دیا تھا۔ تنخواہ وہی تھی، لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ چکے تھے۔
شام کو جب عامر بازار سے واپس گھر آیا تو اس کے چہرے پر پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔ اس نے سودے کا چھوٹا سا تھیلا میز پر رکھا تو فاطمہ نے حیرت سے پوچھا:
“بس اتنا سا سامان؟”
عامر نے دھیمی آواز میں جواب دیا:
“جتنے پیسے تھے، بس اتنا ہی آ سکا۔”

یہ جملہ سنتے ہی گھر میں ایک ہو کا عالم چھا گیا۔ بچے بھی اپنے والدین کی خاموشی اور اداسی کو محسوس کر رہے تھے۔
وقت گزرتا گیا اور مالی مشکلات بڑھتی گئیں۔ جہاں پہلے معمولی معمولی باتوں پر مسکراہٹیں بکھرتی تھیں، اب وہی باتیں تلخ جھگڑوں میں بدلنے لگیں۔ کبھی بجلی کے بل پر بحث ہوتی تو کبھی بچوں کی اسکول فیس پر۔ آہستہ آہستہ وہ محبت، جو اس گھر کی سب سے بڑی طاقت تھی، پریشانیوں کے سنگین بوجھ تلے دبنے لگی۔
ادھر عامر کا بڑا بھائی بھی کاروباری نقصان کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار تھا۔ پہلے دونوں بھائی ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے تھے، مگر مالی حالات نے ان کے درمیان بھی فاصلے پیدا کر دیے تھے۔ چھوٹی چھوٹی غلط فہمیاں بڑھتی گئیں اور باہمی ملاقاتیں کم ہوتے ہوتے ختم ہونے کے قریب پہنچ گئیں۔

ایک دن محلے کی مسجد میں امام صاحب نے جمعہ کے خطبے میں فرمایا:
“رزق کی تنگی انسان کا امتحان ہے، ناکامی نہیں! جو لوگ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں، وہی اصل میں کامیاب لوگ ہوتے ہیں۔”
یہ الفاظ عامر کے دل پر تیر کی طرح ترازو ہو گئے۔ گھر آ کر اس نے فاطمہ سے کہا:
“ہم مہنگائی کا مقابلہ تو کر سکتے ہیں، لیکن اگر ہم نے اپنے رشتے کھو دیے تو سب کچھ ہار جائیں گے۔”
فاطمہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ اصل مسئلہ مہنگائی نہیں، بلکہ اس کے تلخ اثرات کو اپنے دلوں اور رویوں پر حاوی ہونے دینا تھا۔

اگلے ہی دن دونوں میاں بیوی عامر کے بڑے بھائی کے گھر گئے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے معافی مانگی، دل کی باتیں کیں اور وعدہ کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں، رشتوں کی ڈور کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیں گے۔آہستہ آہستہ گھر کا ماحول بدلنے لگا۔ اخراجات میں کفایت شعاری اختیار کی گئی، ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا گیا اور بچوں کو بھی قناعت، صبر اور محبت کا درس دیا گیا۔مہنگائی شاید یکلخت ختم نہ ہوئی ہو، لیکن دلوں کی دوریاں ضرور ختم ہو گئیں۔ عامر نے دل سے محسوس کر لیا کہ دولت کا نقصان تو پورا ہو سکتا ہے، مگر اگر محبت، اعتماد اور خلوص باقی رہے تو زندگی کی ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔

میں کہانی لکھتے وقت یہی سوچتی رہی کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی زندگی کو ضرور مشکل بنا دیتی ہے مگر اگر ہم صبر، برداشت، باہمی تعاون و محبت کا دامن نہ چھوڑیں تو رشتے محفوظ رہتے ہیں۔ معاشی مشکلات وقتی ہوتے ہیں لیکن ٹوٹے ہوئے رشتوں کا نقصان برسوں تک دلوں میں رہ جاتا ہے۔